رسائی کے لنکس

قانون کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی کی اُمید


وزیرِ اعظم کے مشیر برائے قومی ہم آہنگی پال بھٹی

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے قومی ہم آہنگی پال بھٹی

پال بھٹی نے کہا ہے کہ کمسن عیسائی لڑکی کے خلاف توہین اسلام کے الزام میں شواہد میں رد و بدل کے حالیہ انکشاف کے مجموعی صورت حال پر مثبت نتائج مرتب ہوں گے۔

پاکستان میں مختلف حلقوں نے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ کمسن عیسائی لڑکی کے خلاف شواہد میں رد و بدل کے حالیہ انکشاف کے بعد توہینِ مقدسات سے متعلق قانون کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

قرآنی اوراق کی بے حرمتی کے الزام میں گزشتہ تین ہفتوں سے زیرِ حراست رمشا مسیح کے معاملے نے گزشتہ ہفتہ کے روز اُس وقت ایک نیا رُخ اختیار کر لیا تھا جب اسلام آباد کی مہرا جعفر نامی بستی کی مسجد کے موؤذن نے حلفیہ بیان میں کہا کہ امام مسجد خالد جدون نے 14 سالہ لڑکی سے ملنے والے خاکستر کاغذوں میں مبینہ طور پر قرآنی اوراق شامل کیے۔

پولیس نے خالد جدون کو گرفتار کر کے مقامی عدالت میں پیش کیا، جہاں سے اُس کو 14 روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے قومی ہم آہنگی پال بھٹی نے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ امام مسجد سے متعلق انکشاف کے مثبت نتائج مرتب ہوں گے۔

’’شواہد میں رد و بدل کے اس انکشاف کے بعد مستبقل میں الزام تراشوں کی جانب سے (تحفظ ناموس رسالت اور توہینِ مقدسات سے متعلق) قانون کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی ہو گی۔‘‘

انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم کارکنوں کا ماننا ہے کہ معاشرتی دباؤ کے باعث پولیس مقدمہ درج کرنے سے قبل شاذ و نادر ہی اس بات پر توجہ دیتی ہے کہ کہیں توہینِ مقدسات کا الزام لگانے والا جھوٹ تو نہیں بول رہا۔

مقامی و بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان میں توہینِ مقدسات سے متعلق قانون کو مخالفین خصوصاً اقلیتوں کے خلاف استعمال کے واقعات کی وجہ سے اس میں اصلاحات کے مطالبات کرتی آئی ہیں، جو رمشا کی حراست کے بعد ایک مرتبہ پھر زور پکڑ گئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG