رسائی کے لنکس

توہین رسالت سے متعلق قانون کا غلط استعمال نہیں کرنے دیں گے


پاکستان کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے توہین رسالت سے متعلق متنازع قانون کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اقلیتی اُمور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کی قاتلانہ حملے میں ہلاکت کی پہلی برسی کی مناسبت سے منگل کو اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ملک میں تمام علماء کرام اور مکاتب فکر کا متفقہ موقف ہے کہ اس قانون کو غلط طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے۔

’’اس لیے ہم (حکومت) اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کسی بھی قانون کا غلط استعمال نا کیا جائے۔‘‘

وزیرِ اعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تمام جرائم کے سدِ باب کے لیے قوانین موجود ہیں لیکن اُن کی افادیت موثر عمل درآمد سے مشروط ہے۔

سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود صدر آصف علی زرداری کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ شروع نا کرنے کی وجہ سے خود توہین عدالت کے الزامات کا سامنا کرنے والے وزیرِ اعظم نے کہا ’’ہمیں قانون کا احترام کرنا چاہیئے اور قوانین کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیئے۔‘‘

مزید برآں اپنی تقریر میں مسٹر گیلانی نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت ناصرف دہشت گردی اور انتہا پسندی بلکہ مذہبی عدم رواداری کے خطرات کا بھی سامنا ہے۔

اُن کے بقول ملک میں مخلتف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان اعتماد کے فقدان اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اُن کی حکومت ’’پاکستان کو بین المذاہب ہم آہنگی کی روشن مثال‘‘ بنانے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

A Pakistani cameraman films the blood-stained damaged car of slain Pakistan's government minister for religious minorities Shahbaz Bhatti outside the emergency ward of a local hospital in Islamabad, Pakistan on Wednesday, March 2, 2011. Gunmen shot and ki

A Pakistani cameraman films the blood-stained damaged car of slain Pakistan's government minister for religious minorities Shahbaz Bhatti outside the emergency ward of a local hospital in Islamabad, Pakistan on Wednesday, March 2, 2011. Gunmen shot and ki

اقلیتی اُمور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو نامعلوم افراد نے گزشتہ برس 2 مارچ کو اسلام آباد میں اُس وقت گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا جب وہ دفتر جانے کے لیے اپنی رہائش گاہ سے نکلے۔

جائے وقوع پر پولیس کو ملنے والی تحریر میں کہا گیا تھا کہ وفاقی وزیر کو تحفظِ ناموس رسالت ایکٹ پر تنقید کرنے کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔

حقوق انسانی کی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کا الزام ہے کہ پاکستان میں بااثر افراد تحفظِ ناموس رسالت ایکٹ کو اقلیتوں خصوصاً مسیحی برادری کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اس لیے اس قانون کو اگر مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم اس میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

اس اسلامی قانون میں مجوزہ تبدیلی ایک انتہائی حساس معاملہ بن کر ابھر ہے اور بعض اہم شخصیات کی جانب سے اس کی انفرادی حمایت پر مختلف حلقوں، خصوصاً مذہبی رہنماؤں کی جانب سے کڑی تنقید کے بعد خود وزیرِ اعظم گیلانی کو کئی مرتبہ اس بات کی یقین دہانی کرانی پڑی کے اُن کی حکومت اس قانون میں کسی ترمیم کا ارادہ نہیں رکھتی۔

صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو بھی گزشتہ سال اُن کے ہی ایک سرکاری محافظ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ممتاز قادری

ممتاز قادری

پنجاب پولیس کے کمانڈو ممتاز قادری نے بعد میں اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا تھا کہ گورنر کی طرف سے توہین رسالت سے متعلق قانون پر تنقید نے اُسے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں اقلیتی ہندو برادری کی طرف سے بھی شکایات میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجوہات میں خاص طور پر بلوچستان میں ہندو تاجروں کے اغواء برائے تاوان کے بڑھتے ہوئے واقعات اور سندھ کے بعض علاقوں میں ہندو لڑکیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرکے مسلمانوں سے شادی پر امادہ کرنا نمایاں ہیں۔

XS
SM
MD
LG