رسائی کے لنکس

’پاکستان کے تعلیمی اداروں کے نصاب میں عدم برداشت کا درس‘


’پاکستان کے تعلیمی اداروں کے نصاب میں عدم برداشت کا درس‘

’پاکستان کے تعلیمی اداروں کے نصاب میں عدم برداشت کا درس‘

پاکستان کے سرکاری اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتابوں میں موجود بعض مواد تعصب اور عدم برداشت کے رجحانات کو تقویت دے رہا ہے۔

یہ انکشاف بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن (یو ایس سی آئی آر ایف) کی بدھ کو جاری کی گئی سالانہ مطالعاتی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

کمیشن کے سربراہ لیونارڈ لیو کا کہنا ہے کہ عدم رواداری کو فروغ دینے والا یہ مواد محض دینیات کی کتابوں تک محدود نہیں بلکہ تمام سرکاری اسکولوں میں پڑھائی جانے والی معاشرتی علوم کی کتابوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

’’تفریق کا (یہ) درس ان امکانات میں اضافہ کر رہا ہے کہ پاکستان میں پُرتشدد انتہاپسندی بڑھے گی جس سے مذہبی آزادی، ملکی و علاقائی استحکام، اور عالمی سلامتی کمزور ہو گی۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ کتابوں میں اسلام سے منسلک کہانیاں، سوانح حیات اور شاعرانہ تحریریں بھی موجود ہوتی ہیں جن کا پڑھنا غیر مسلم طلبا و طالبات پر بھی لازم ہوتا ہے اور اُن سے اس بارے میں امتحان بھی لیا جاتا ہے۔

سماجی اُمور اور ترقی پر کام کرنے والی پاکستانی غیر سرکاری تنظیم ’ایس ڈی پی آئی‘ کے تعاون سے مرتب کی گئی رپورٹ کی تیاری کے دوران پاکستان کے چاروں صوبوں میں پڑھائی جانے والی جماعت اول تا دہم کی 100 کتابوں کا جائزہ لیا گیا، جب کہ محققین نے 37 سرکاری اسکولوں میں 277 اور 19 مدارس میں 226 طالب علموں اور اساتذہ سے اُن کے تاثرات معلوم کیے۔

یو ایس سی آئی آر ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی نصاب میں اقلیتوں، بالخصوص ہندوؤں اور کسی حد تک عیسائیوں، کی منظم انداز میں منفی تصویر کشی کی گئی ہے۔

’’مذہبی اقلیتوں (کے اراکین) کو بالعموم کم تر یا دوسرے درجے کے شہری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جنھیں فیاض پاکستانی مسلمانوں نے محدود حقوق اور مراعات دے رکھی ہیں، جن پر اُنھیں (اقلیتوں کو) شکر گزار ہونا چاہیئے۔‘‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ہندوؤں کو تسلسل کے ساتھ انتہا پسند اور اسلام کے ازلی دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جن کی ثقافت اور معاشرے کی بنیاد ناانصافی اور بے رحمی پر قائم ہے، جب کہ اسلام امن و بھائی چارے کا درس دیتا ہے، جو ہندوؤں کے لیے اجنبی ہیں۔‘‘

XS
SM
MD
LG