رسائی کے لنکس

فلوریڈا میں قرآن نذرآتش کرنے کی مذمت

  • یاسر منصوری

فلوریڈا میں قرآن نذرآتش کرنے کی مذمت

فلوریڈا میں قرآن نذرآتش کرنے کی مذمت

بیان میں وزیر مملکت برائے خارجہ اُمور حنا ربانی کھر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صرف انتہا پسند ہی یہ قابل ملامت فعل کر سکتے ہیں اور اس کا مقصد اقوام عالم میں اختلاف رائے پیدا کرنا اور ان میں پھوٹ ڈالنا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس اقدام کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا اور ”ایسے گستاخانہ فعل صریحاً بین المذاہب ہم آہنگی کے نظریے کی نفی کرتے ہیں۔“

پاکستان نے امریکی ریاست فلوریڈا میں قرآن کے نسخے کو نذر آتش کرنے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

منگل کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے آغاز پر صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اس واقعے سے دنیا کے مہذب معاشروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوششوں کو دھچکا لگے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ پارلیمان ایک قرارداد منظور کرے جس میں اقوام متحدہ سے اس اقدام پر غور کا مطالبہ کیا جائے۔

ٹیری جونز

ٹیری جونز

پاکستانی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں فلوریڈا کے ایک چھوٹے چرچ کے پادری ٹیری جونز کی نگرانی میں وائن سیپ نامی شخص کی جانب سے قرآن نذر آتش کیے جانے کو ”قابل نفرت“ فعل قرار دیتے ہوئے اس کی پُرزور مذمت کی۔

بیان میں وزیر مملکت برائے خارجہ اُمور حنا ربانی کھر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صرف انتہا پسند ہی یہ قابل ملامت فعل کر سکتے ہیں اور اس کا مقصد اقوام عالم میں اختلاف رائے پیدا کرنا اور ان میں پھوٹ ڈالنا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس اقدام کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا اور ”ایسے گستاخانہ فعل صریحاً بین المذاہب ہم آہنگی کے نظریے کی نفی کرتے ہیں۔“

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان توقع کرتا ہے کہ امریکی انتظامیہ اور عوام کے علاوہ تمام مہذب معاشرے اس اقدام پر اپنے ردعمل کا اظہار کریں گے۔

مزید براں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے سے جاری کیے گئے ایک بیان میں قرآن نذر آتش کرنے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ محض چند افراد کا ایک ذاتی فعل تھا جو امریکی روایات کے منافی ہے۔

بیان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے کہا کہ یہ واقعہ امریکہ میں اسلام سے متعلق مجموعی جذبات کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ”دانستہ طور پر کسی بھی متبرک کتاب کو تباہ کرنا قابل تنفر اقدام ہے۔“

کیمرون منٹر

کیمرون منٹر

کیمرون منٹر کے مطابق امریکہ مذہب اور اظہار رائے کی آزادی یقینی بنانے کے عزم پر قائم ہے اور اسے امریکی آئین میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ ”ہم مذہبی عدم رواداری کو مسترد کرتے ہیں چاہے وہ کسی شکل میں ہو۔“

XS
SM
MD
LG