رسائی کے لنکس

مذہبی و فرقہ وارانہ تشدد سے ہلاکتوں میں ماضی کی نسبت کمی


فائل فوٹو

رپورٹ کے مطابق 2016ء میں فرقہ وارانہ بنیاد پر ہونے والے مہلک واقعات میں 241 افراد موت کا شکار ہوئے جبکہ 2015ء میں یہ تعداد 304 تھی۔

پاکستان میں گزشتہ برس مذہبی و فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں 2015ء کی نسبت 20 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

یہ بات اسلام آباد میں قائم ایک غیر سرکاری ادارے "سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز" نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتائی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2016ء میں فرقہ وارانہ بنیاد پر ہونے والے مہلک واقعات میں 241 افراد موت کا شکار ہوئے جبکہ 2015ء میں یہ تعداد 304 تھی۔

ملک بھر میں ہونے والے واقعات کے اعدادو شمار پر مبنی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ جہاں گزشتہ سال سندھ اور خیبر پختنونخواہ میں ایسی ہلاکتوں میں کمی آئی وہیں پنجاب، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں ان میں اضافہ دیکھا گیا۔

2016ء میں سندھ میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہلاکتوں کی تعداد 40 اور خیبرپختونخواہ میں 13 تھی جب کہ 2015ء میں یہ تعداد بالترتیب 178 اور 33 تھی۔

رپورٹ کے مطابق سب سے مہلک واقعہ لاہور میں پیش آیا جہاں گلشن اقبال پارک میں بظاہر مسیحی برادری کو خودکش بم حملے میں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ ایسٹر کے موقع پر ہونے والے اس حملے میں 74 افراد ہلاک ہوئے جن میں 14 کا تعلق مسیحی برادری سے بتایا گیا۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

دوسرا مہلک ترین حملہ خضدار میں شاہ نورانی مزار پر ہوا جس میں 62 افراد مارے گئے۔

گزشتہ سال فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والی ہلاکتوں میں سے 70 فیصد سے زائد خودکش حملوں کا شاخسانہ بتائی جاتی ہیں۔

رپورٹ میں ماضی کی نسبت ہلاکتوں میں کمی کی بڑی وجوہات عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن ضرب عضب اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی طرف سے کی جانے والی ٹارگٹڈ کارروائیوں کو قرار دیا گیا جبکہ کئی ایک عوامل بشمول منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائیاں اس کا اسباب ہیں۔

تاہم رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ ماضی کی نسبت بہتر ہوتی ہوئی اس صورتحال کو دیرپا بنانے کے لیے حکومت کو ٹھوس اقدام کرنے کی ضرورت ہے جن میں پولیس کے نظام سمیت انصاف کی فوری فراہمی کے لیے نظام عدل میں اصلاحات بھی اہم ہیں۔

سینیئر قانون دان اور تجزیہ کار اکرام چودھری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس بات سے اتفاق کیا کہ پاکستان میں پولیس اور استغاثہ کے نظام میں موثر اصلاحات ناگزیر ہیں۔

"تفتیشی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے آئین کے تجت قائم عدالتوں کو مضبوط کریں جس کا مطلب ہے کہ استغاثہ کم سے کم وقت میں تفتیش مکمل کر کے ملزمان کے مقدمات سماعت کے لیے پیش کرے، جب کم وقت میں سماعت اور فیصلے ہوں گے تو جرم کرنے والے عناصر پر اس کے اثرات ہوں گے ایک خوف ہو گا کہ قانون حرکت میں آگیا ہے اور وہ قانون کی زد سے نہیں بچ سکیں گے۔"

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ بدعنوانی کے مکمل خاتمے کے بغیر کی جانے والی کوششوں کے بامعنی نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔

حکومت کا یہ کہنا ہے کہ وہ ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور ماضی کی نسبت پاکستان میں امن و امان کی بہتر ہوتی صورتحال اور معیشت کی بحالی اس کی واضح مثالیں ہیں۔

XS
SM
MD
LG