رسائی کے لنکس

بین المذاہب ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے: وفاقی وزیر


فائل فوٹو

وفاقی وزیر سردار یوسف نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ملک میں توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکا جائے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور اور بین المذہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کہا کہ بطور معاشرے کے یہ سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ نا صرف دوسروں کی رائے کا احترام کیا جائے بلکہ بے بنیاد الزامات سے گزیر کیا جائے۔

بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اسلام آباد میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب میں وفاقی وزیر سردار یوسف نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ملک میں توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکا جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں حال ہی لاپتا ہونے کے بعد بازیاب ہونے والے بلاگرز کے بارے میں بھی بعض حلقوں کی طرف سے توہین مذہب کے الزامات لگائے گئے اور اس بارے میں سوشل میڈیا پر ایک مہم بھی چلائی گئی۔

ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن زہر یوسف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس بارے میں محض بیان کافی نہیں ہے بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

’’جب تک ترمیم نہیں لائیں گے اور جو قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں ان کو ہدایت نہیں دیں گے کہ اس کا غلط استعمال نا ہو، یہ تو تسلی بخش بیان نہیں ہے۔۔۔ کیوںکہ اب بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے لوگوں کے خلاف توہین مذہب کے کیسز فائل ہو رہے ہیں۔۔ بلاگرز کے خلاف کوشش کی گئی تو ضرورت تو ہے کہ اس میں ترمیم لائیں اور صرف بیان سے کام نہیں چلے گا۔‘‘

انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے حق میں آواز بلند کرنے والے پانچ بلاگرز کی گمشدگی کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی خبریں سامنے آئی ہیں جن میں اُن پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ وہ ’’توہین مذہب‘‘ کے مرتکب ہوئے۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے الزامات کے بعد نا صرف بلاگرز بلکہ اُن کے اہل خانہ کے لیے خطرات میں اضافہ ہو گیا۔

توہین مذہب سے جڑا کوئی بھی معاملہ پاکستان میں ایک انتہائی حساس نوعیت معاملہ تصور کیا جاتا ہے اور اس بارے میں مروجہ قانون میں کسی بھی طرح کی ترمیم کی تجویز پر خاص طور پر ملک کے مذہبی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے میں آتا رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ توہین مذہب کا قانون صرف اقلیتوں کے خلاف استعمال نہیں ہو رہا ہے بلکہ دستیاب اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ توہین مذہب سے متعلق مقدمات میں سزائیں پانے والوں میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔

دریں جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں شامل افراد نے اس پر زور دیا کہ ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تمام سطحوں پر مذاکرات کی ضرورت ہے۔

معروف مذہبی شخصیت حافظ طاہر اشرفی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ عدم برداشت کے رویوں کے خاتمے کے لیے مختلف مذاہب اور عقائد کے ماننے والوں کے درمیان مذاکرات کا اہتمام بہت اہم ہے۔

’’میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت جو حالات پیدا ہو گئے ہیں ان میں ایک ہی صورت ہے دنیا میں امن برقرار رکھنے کی اور وہ ہے مذاکرات۔۔۔ تاکہ ایک دوسرے کو سمجھا جائے، مذہب کی بنیاد پر نسل کی بنیاد پر رنگ کی بنیاد پر۔۔۔ جب تفریق اور تصادم کی باتیں ہو رہی ہیں تو اس کا خاتمہ صرف اور صرف مذاکرات سے ہی ہو سکتا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ بین مذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے لیے حال ہی میں حکومت کی طرف سے دو الگ الگ کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ جب کہ ایک ایک ایسی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو کہ دینی مدارس میں پڑھائی جانے والی نصابی کتب کا جائزہ لے کر اُنھیں منافرت پر مبنی مواد سے پاک کرے گی۔

پاکستان میں مختلف حلقوں کی طرف سے ملک میں بین الامذہب اور بین المسالک رواداری بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کرنے کے مطالبات کیے جاتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG