رسائی کے لنکس

رپورٹ کے مطابق ماؤں کو تحفظ، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے اعتبار سے پاکستان دنیا کے 178 ملکوں میں 147 ویں نمبر پر ہے

بچوں کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم ’’سیوو دی چلڈرن‘‘ کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں روزانہ 800 مائیں اور 18 ہزار بچے زچگی کے دوران صرف ان پیچیدگیوں کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں جن کا تدارک ممکن ہے۔

قدرتی آفات اور مسلح تصادم کے دوران ماؤں اور بچوں کو درپیش مسائل پر مبنی اپنی سالانہ رپورٹ میں تنظیم نے بتایا کہ نصف سے زیادہ ایسی اموات ان ممالک میں ہوتی ہیں جہاں صحت اور دیگر بنیادی سہولتیں ناکافی ہیں اور اس فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے۔

منگل کو جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق ماؤں کو تحفظ، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے اعتبار سے پاکستان دنیا کے 178 ملکوں میں 147 ویں نمبر پر ہے اور اسی وجہ سے جنوبی ایشیا میں اسے ماؤں کے لیے مشکل ترین ملک قرار دیا گیا۔

سیوو دی چلڈرن کی صحت و غذائیت کی ڈائریکٹر ڈاکٹر قدسیہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات اور مسلح تصادم کے دوران پاکستان میں ماؤں اور بچوں کی نا صرف بنیادی ضروریات تک رسائی انتہائی مشکل بلکہ تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کے تناظر میں وہ خود کو بہت زیادہ غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔

’’ہمارا معاشرہ عمومی طور پر مردوں کا معاشرہ سمجھا جاتا ہے جہاں مردوں کی کسی سروسز تک رسائی بچوں اور عورتوں کی نسبت بہت ہی زیادہ ہوتی ہے اور بچے اور عورتیں اس کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتے۔ تو سب سے پہلی پابندی تو آگاہی حاصل کرنے پر ہوتی ہے کہ وہ چار دیواری سے باہر ہی نہیں جا سکتی۔‘‘

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کسی آفت کی صورت میں مردوں کی نسبت بچوں اور عورتوں کی اموات چودہ گنا زیادہ ہوتی ہیں جبکہ مسلح تصادم میں ایک ہلاکت کے مقابلے میں بیماریوں، طبی پیچیدگیوں اور غذائی قلت سے تین سے پندرہ اموات ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر قدسیہ پاکستان میں اس مسئلے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہتی ہیں۔

’’اقتصادی اور سیاسی عدم استحکام کے علاوہ گزشتہ سالوں مین متواتر قدرتی آفات اور عسکریت پسندی نے صحت و تعلیم میں نا صرف بہتری کو روک دیا بلکہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان نے یو ٹرن لے لیا ہے۔‘‘

سیوو دی چلڈرن کے پاکستان میں سربراہ ڈیوڈ اسکنر کہتے ہیں کہ تحقیق سے بات واضح ہے کہ قدرتی آفات اور مسلح تصادم کے دوران ماؤں اور بچوں کے تحفظ اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے غیر معمولی اقدامات نا گزیر ہیں۔

’’اگر آپ روزمرہ زندگی کے بارے میں سوچیں تو ہم بچوں کے تحفظ کے لیے ہر وہ چیز کرتے ہیں جو ہم کر سکتے ہیں لیکن جب قدرتی آفات یا مسلح تصادم سے ان کی زندگیاں منتشر ہوتی ہیں تو ان کے لیے عام چیزیں بھی مہیا نہیں ہوتیں اسی وجہ سے یا اسی صورتحال میں ہمیں بچوں کی دیکھ بھال کے لئے خصوصی کوششیں کرنی چاہیئں۔‘‘

سیوو دی چلڈرن کے اندازے کے مطابق رواں سال 8 کروڑ لوگوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ضروت پڑے گی جس میں تین تہائی تعداد بچوں اور عورتیں کی ہے۔
XS
SM
MD
LG