رسائی کے لنکس

سال کا سولہواں 'جے ایف-17 تھنڈر' پاک فضائیہ کے حوالے

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اطلاعات کے مطابق پاکستان فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل سہیل امان نے پیر کو کہا کہ پاکستان امریکہ سے جدید ترین ایف 16 طیاروں کی خریداری پر بات چیت کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے ان طیاروں کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا۔

پاکستان نے چین کے اشتراک سے تیار کیے جانے والے لڑاکا طیارے جے ایف 17 تھنڈر کا سالانہ پیداواری کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔

پاکستان ایئر فورس کے ترجمان نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ کامرہ میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس نے اس سال 16 واں جے ایف 17 تھنڈر جیٹ ائیر فورس کے حوالے کر کے اپنا سالانہ ہدف حاصل کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ آئندہ سال کمپلیکس کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل سہیل امان نے پیر کو کہا کہ پاکستان امریکہ سے جدید ترین ایف 16 طیاروں کی خریداری پر بات چیت کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے ان طیاروں کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا۔

ان کا کہنا تھا کہ 2020 تک پاکستان فضائیہ میراج سمیت اپنے پرانے جنگی طیاروں کو خیر آباد کہہ دے گی۔

یاد رہے کہ ملک کے دشوار گزار قبائلی علاقوں میں فضائیہ نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی ہیں اور اپنی جنگی استطاعت بڑھانے کے لیے ناصرف ملکی دفاعی پیداوار پر انحصار کیا جا رہا ہے بلکہ بیرون ممالک خصوصاً امریکہ سے لڑاکا ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کی خریداری کے لیے بات چیت جاری ہے۔

تجزیہ کار ظفر جسپال کا کہنا تھا کہ جے ایف 17 تھنڈر کی پیداور سے پاکستان میں دفاعی شعبے میں خود اعتمادی اور خود انحصاری پیدا ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان طیاروں کی آپریشن ضرب عضب کے دوران استعمال کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔

’’یہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور ان میں اگر ہم نئے برقی نظام لگاتے جائیں تو یہ مزید بہتر ہو جاتے ہیں۔ جو اطلاعات آ رہی ہیں ان کے مطابق فضائیہ نے ضرب عضب میں جو بھی کارروائیاں کی ہیں ان میں ان (طیاروں کا) اچھا کردار رہا ہے۔‘‘

قبل ازیں ستمبر میں ضلع اٹک کے شہر کامرہ میں واقع ایروناٹیکل کمپلیکس نے ایئربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم طیارے کو دوبارہ فعال کیا تھا، اس طیارے کو 2012 میں کامرہ ائیربیس پر حملے میں نقصان پہنچا تھا۔

واضح رہے کہ اتوار کو ایئر چیف مارشل سہیل امان نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خطرے سے اسی وقت مکمل طور پر نمٹا جا سکتا ہے جب قوم اتحاد، عزم اور قوت ارادی کا مظاہرے کرے۔

ایک تقریب سے خطاب میں آپریشن ضرب عضب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’عالمی برادری نے اتنی کم مدت میں دہشت گردی کے خلاف ہماری کامیابیوں کو سراہا ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG