رسائی کے لنکس

ن لیگ کا عدالت جانے کے بجائے ضمنی انتخاب لڑنے کا اعلان

  • عشرت سلیم

حکومتی ترجمان سینیٹر پرویز رشید (فائل فوٹو)

حکومتی ترجمان سینیٹر پرویز رشید (فائل فوٹو)

الیکشن ٹربیونل کے فیصلے میں لاہور کے حلقے این اے 122 کے انتخابات کو کالعدم قرار دیا گیا تھا جب کہ رواں ہفتے لودھراں سے حلقہ این اے 154 کے انتخابی نتائج کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا۔

پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے فیصلہ کیا ہے کہ الیکشن ٹربیونلز کی طرف سے لاہور اور لودھراں سے قومی اسمبلی کے حلقوں کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر نہیں کی جائے گی بلکہ ضمنی انتخابات میں بھرپور حصہ لیا جائے گا۔

جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے اس فیصلے سے میڈیا کے نمائندوں کو آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہم پاکستان کے عوام کی عدالت میں حاضر ہوں گے اور ان سے دوبارہ مہر تصدیق حاصل کریں گے جیسی 2013 کے الیکشن میں حاصل کی، جیسے ابھی ہری پور کے الیکشن میں اور جیسے ان تمام ضمنی انتخابات میں حاصل کی ہے جو دھرنے کے بعد ہوئے ہیں۔‘‘

گزشتہ ہفتے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے میں لاہور کے حلقے این اے 122 کے انتخابات کو کالعدم قرار دیا گیا تھا جب کہ رواں ہفتے لودھراں سے حلقہ این اے 154 کے انتخابی نتائج کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا۔

لاہور کے حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے ایاز صادق نے عمران خان کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی تھی جب کہ لودھراں سے ایک آزاد اُمیدوار صدیق خان بلوچ نے تحریک انصاف کے ایک سینیئر رہنما جہانگیر ترین کو شکست دی تھی۔ صدیق بلوچ نے بعد میں پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

تحریک انصاف کا موقف تھا کہ ان دنوں حلقوں میں دھاندلی کے ذریعے اُسے ہرایا گیا اور اسی بنا پر عمران خان اور جہانگیر ترین نے الیکشن ٹربیونل سے رجوع کیا تھا۔

الیکشن ٹربیونلز نے دونوں حلقوں میں وسیع پیمانے پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان حلقوں کے نتائج کو کالعدم قرار دیا جبکہ صدیق بلوچ کو جعلی تعلیمی اسناد رکھنے اور حقائق چھپانے کے الزام میں نااہل بھی قرار دیا۔

الیکشن ٹربیونلز کے فیصلوں کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے اراکین سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کرے گی۔

اس کے جواب میں پرویز رشید نے کہا کہ تحریک انصاف ناکامی کے خوف سے ضمنی انتخابات سے بھاگنا چاہتی ہے مگر اسے ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا۔

گزشتہ سال پاکستان تحریک انصاف نے مسلسل چار ماہ تک اسلام آباد میں 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا تھا جس کے بعد دھاندلی کے الزامات کی تحقیق کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔

جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں 2013 کے عام انتخابات میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی مگر کہا کہ اسے منظم دھاندلی کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔

XS
SM
MD
LG