رسائی کے لنکس

پاک روس سفارتی تعلقات میں گرمجوشی


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

روسی وفد نے پیر کو اسلام آباد میں مشترکہ وزارتی کمیشن کےاجلاس میں شرکت کی جس میں صدر ولادیمر پوٹن کا مجوزہ دورہ پاکستان بھی زیر بحث آیا۔

پاکستان اور روس کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس پیر کو اسلام آباد میں ہوا جس میں توانائی، مواصلات، زراعت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

دونوں وفود نے بات چیت میں منشیات کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر بھی اتفاق کرتے ہوئے کمیشن کا اگلا اجلاس آئندہ سال ماسکو میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر مملکت برائے اُمور خارجہ ملک عماد خان نے کی جب کہ روسی وفد کی سربراہی کھیلوں کے وزیر وٹالی مٹکو نے کی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اجلاس میں شرکت کرنے والا روسی وفد 30 ممبران پر مشتمل تھا اور چیت میں اُنھوں نے صدر ولادیمر پوٹن کے اکتوبر میں مجوزہ دورہ پاکستان کی تیاریوں پر تجاویز کا تبادلہ بھی کرنا تھا۔

روس کے کسی سربراہ مملکت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہو گا اور اس کا مقصد اسلام آباد میں ایک علاقائی کانفرنس میں شرکت کرنا ہے جس میں پاکستان اور روس کے علاوہ افغانستان اور تاجکستان کے رہنما بھی شامل ہوں گے۔

رواں ماہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی ماسکو کا سرکاری دورہ کریں گے۔


پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی

پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی

گزشتہ ماہ پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ نے بھی ماسکو میں روسی ائر فورس کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کی تھی جو پاکستان ائرفورس کے کسی سربراہ کا پہلا دورہ روس تھا۔

مبصرین کے خیال میں روس اور پاکستان کے درمیان یہ اعلیٰ سطحی رابطے دو طرفہ تعلقات میں تیزی سے آنے والی بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ایک سابق بریگیڈئر فاروق حمید خان نے پیر کو اخبار ’دی نیوز‘ میں اپنے کالم میں کہا ہے کہ کمیونسٹ ملکوں کے خلاف ’’سیٹو / سینٹو معاہدوں میں پاکستان کی شمولیت، 1971 میں مشرق پاکستان پر حملہ آور ہونے والی بھارتی افواج کی روسی حمایت اور پاکستان کا امریکہ کے ساتھ مل کر 1980 کی دہائی میں روسی افواج کے خلاف افغان جہاد کی پشت پناہی‘‘ ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کی کوششوں میں بڑی رکاوٹیں رہے ہیں۔

پاکستان کے روس کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطوں میں تیزی ایک ایسے وقت آئی ہے جب امریکہ کے ساتھ اُس کے تعلقات کشیدہ ہیں تاہم حال میں دونوں ملکوں نے ان میں بہتری کے دعوے بھی کیے ہیں۔

پاکستان اور روس افغانستان میں امن و استحکام کے لیے امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی کوششوں کے حامی ہیں مگر دونوں ہی 2014ء کے بعد کابل اور واشنگٹن کے مابین اسٹریٹیجک معاہدے کے تحت امریکی افواج کی تعیناتی پر تحفظات رکھتے ہیں کیونکہ اُن کے خیال میں اس کی وجہ سے خطے میں عدم استحکام برقرار رہے گا۔

روس پاکستان اسٹیل مل کی پیداوار میں اضافے کے لیے اسے وسعت دینے اور جدید ٹیکنالوجی کی تنصیب کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری پر رضامندی کا اظہار کرچکا ہے۔


اسٹیل مل (فائل فوٹو)

اسٹیل مل (فائل فوٹو)

اسٹیل مل کی موجودہ پیداوار پندرہ لاکھ ٹن تک ہے اور روسی سرمایہ کاری کے بعد یہ بڑھ کر تیس لاکھ ٹن ہو جائے گی۔ اس ضمن میں مفاہمت کی یاداشت پر دستخط روسی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران متوقع ہیں۔

امریکہ کی طرف سے شدید مخالفت اور تعزیرات کی دھمکیوں کے باوجود روسی حکام نے پاکستان اور ایران کے درمیان مجوزہ گیس پائپ لائن کی تعمیر کے لیے مالی و تکنیکی معاونت فراہم کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

روس سلامتی، انسداد دہشت گردی، دفاع اور اقتصادی تعاون کے فروغ کی علاقائی تنظیم ’شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (ایس سی او)‘ میں پاکستان کی مکمل رُکنیت کی کھل کر حمایت کرچکا ہے۔

تنظیم کے دیگر ممبران میں چین، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور اُزبکستان شامل ہیں۔
XS
SM
MD
LG