رسائی کے لنکس

بھارتی قیدی سربجیت بدستور ’بے ہوش‘ ہے: دفتر خارجہ


سربجیت کی بیوی اور بیٹیاں

سربجیت کی بیوی اور بیٹیاں

پاکستان کی وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ سربجیت سنگھ کے جو رشتے دار لاہور میں آنا چاہتے ہیں اُنھیں ویزا کی سہولت فراہم کی جائے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ لاہور کے کوٹ لکھپت جیل میں جمعہ کو قیدیوں کے درمیان لڑائی سے بھارتی قیدی سربجیت سنگھ کے سر پر شدید چوٹیں آئیں جس سے وہ بے ہوش ہو گئے۔

دفتر خارجہ سے ہفتہ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ بھارتی قیدی کو فوری طور پر لاہور کے جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر اور طبی عملہ مسلسل اُن کی صحت کی بحالی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

تاہم بیان میں بتایا گیا کہ سربجیت تاحال بے ہوش اور وینٹیلیٹر یا مصنوعی نظام تنفس پر ہیں۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اس واقعہ کی خبر ملتے ہی انسانی ہمدردی کے بنیاد پر اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے دو عہدیداروں کو فوری طور پر لاہور جانے کی اجازت دی گئی جنہوں نے جمعہ کی شب اسپتال میں پہنچ کر خود زخمی سربجیت سنگھ کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔

جناح اسپتال میں موجود ڈاکٹروں اور حکومت پنجاب کے عہدیداروں نے بھارتی ہائی کمیشن کے عہدیداروں کو سربجیت سنگھ کی صحت کے بارے میں آگاہ کیا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ سربجیت سنگھ کے جو رشتے دار لاہور میں آنا چاہتے ہیں اُنھیں ویزا کی سہولت فراہم کی جائے۔

پنجاب کی وزارت داخلہ اور جیل حکام جمعہ کو پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

پاکستان میں جاسوسی اور بم دھماکوں کے جرائم میں 20 سال سے زائد عرصے سے قید بھارتی شہری سربجیت سنگھ سزائے موت پر عمل درآمد کا منتظر ہے اور اطلاعات کے مطابق جمعہ کو کوٹ لکھپت جیل میں دو ساتھی قیدیوں نے اُس پر حملہ کیا تھا۔

اُدھر پاکستان میں انسانی حقوق کی سرگرم غیر سرکاری تنظیم ’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ نے ہفتہ کو ایک بیان میں سربجیت سنگھ پر حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارتی شہری سر بجیت کو 1990ء میں پاکستان میں جاسوسی اور بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد پاکستانی عدالتوں کی طرف سے اسے سزائے موت سنائی گئی۔

اس سزا کے خلاف سربجیت سنگھ کے خاندان نے صدر پاکستان سے رحم کی اپیل بھی کر رکھی ہے جس پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG