رسائی کے لنکس

بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور پاکستانی وزیراعظم کے درمیان ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی، جس میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کیا، تاہم بات چیت کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے، جس میں باہمی دلچسپی کے دوطرفہ اُمور، علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر بات چیت کی گئی۔

وزیراعظم نواز شریف عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں ہیں۔ ایک سرکاری بیان میں بتایا گیا کہ بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور پاکستانی وزیراعظم کے درمیان ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی اور پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کیا، تاہم بات چیت کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

وزیر اعظم نے چار دہائیوں تک سعودی عرب کے وزیر خارجہ کے فرائض سرانجام دینے والے شہزادہ سعود الفیصل کی وفات پر اظہار تعزیت بھی کیا۔

ملاقات میں سعودی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف بن عبدالعزیز بھی موجود تھے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے قریبی دیرینہ تعلقات ہیں لیکن ان میں بظاہر کچھ تلخی اُس وقت پیدا ہوئی جب یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی طرف سے کی جانی والی کارروائیوں کے تناظر میں پاکستان نے اس جنگ کے لیے اپنی فوجیں نہ بھیجنے کا فیصلہ۔

تاہم وزیراعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے رواں سال اپریل میں سعودی عرب کے دورے کے موقع پر سعودی قیادت کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ اگر اُن کے ملک کی سرحدی خودمختاری یا سالمیت کو کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان اُس کا بھرپور دفاع کرے گا۔

سعودی عرب میں فوجیں بھیجنے یا نا بھیجنے کے معاملے پر پاکستانی پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بھی ہوا جس میں طویل بحث کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ یمن کے تنازع میں پاکستان غیر جانبدار رہ کر اس تنازع کے سفارتی حل کے لیے متحرک کردار ادا کرے گا۔

پاکستانی پارلیمان نے متفقہ طور پر 12 نکاتی قرارداد منظور کی جس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اگر سعودی عرب کی سرحدی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کو کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG