رسائی کے لنکس

’این جی اوز‘ کو ملکی مفاد کے خلاف کام کی اجازت نہیں دیں گے: چوہدری نثار


وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’’سیوو دی چلڈرن‘‘ ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھی جو پاکستان کے مفاد کے خلاف تھیں، اس تنظیم کا اسلام آباد میں دفتر سیل کر دیا گیا ہے۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم "سیوو دی چلڈرن" کا اسلام آباد میں دفتر سیل کر دیا گیا ہے جب کہ حکام کی طرف سے تنظیم کے غیر ملکی عملے کو 15 روز میں ملک چھوڑنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

اُدھر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ ملک میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کی نگرانی کا عمل سخت کیا جائے گا۔

اُنھوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’سیوو دی چلڈرن‘‘ ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھی جو پاکستان کے مفاد کے خلاف تھیں۔

اُنھوں نے کہا کہ کسی بھی ’این جی او‘ کو ملک کے مفادات، ثقافت اور اقدار کے خلاف کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کرنے والی مقامی اور غیر ملکی ’این جی اوز‘ کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور اس سلسلے میں کسی دباﺅ کو قبول نہیں کریں گے۔

تاہم اُنھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ملک کے قانون اور اپنے ’چارٹر‘ کے تحت کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کی معاونت کی جائے گی۔

’’این جی اوز کے حوالے سے گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں مادر پدر آزادی کی پالیسی چل رہی تھی، سال ہا سال سے ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹوں پر کوئی کارروائی نہیں ہو رہی تھی، کسی این جی او کا کام اس کے چارٹر کے تحت اگر اسلام آباد میں ہے تو وہ بلوچستان، گلگت بلتستان یا قبائلی علاقوں میں سرگرم عمل تھی۔‘‘

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف نے اپنے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی ہے، جس میں دیگر وزارتوں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ اُن کے بقول یہ خصوصی کمیٹی ’’این جی اوز‘‘ کے حوالے سے پالیسی کو حتمی شکل دے گی۔

چوہدری نثار نے ’’سیوو دی چلڈرن‘‘ کے بارے میں الزامات سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی۔ تاہم شائع شدہ اطلاعات کے مطابق تنظیم کے خلاف یہ اقدام اس کے مبینہ طور پر "ملک دشمن سرگرمیوں" میں ملوث ہونے پر کیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں ایبٹ آباد میں 2011ء میں امریکی اسپیشل فورسز کے خفیہ آپریشن کے بعد سے ’سیوو دی چلڈرن‘ کی نگرانی کر رہی تھیں۔ اس آپریشن میں القاعدہ کے روپوش رہنما اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

لیکن سرکاری طور پر اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

’سیوو دی چلڈرن‘نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کہ اُس کا اسلام آباد میں دفتر 11 جون کو سیل کر دیا گیا، لیکن اُسے کسی قسم کا نوٹس موصول نہیں ہوا۔

بیان میں حکومت کے اس اقدام پر سختی سے اعتراض کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس بارے میں تحفظات کو اعلیٰ ترین سطح پر اُٹھایا جائے گا۔

’سیوو دی چلڈرن‘ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ تنظیم گزشتہ 35 سال سے پاکستان میں کام کر رہی ہے اور اس وقت ملک بھر میں 1200 افراد اس سے منسلک ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ کوئی بھی غیر ملکی شہری ’سیوو دی چلڈرن‘ کے لیے پاکستان میں کام نہیں کرتا۔

واضح رہے کہ 2012ء میں بھی اس تنظیم کے غیر ملکی عہدیداروں کو دو ہفتوں میں پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم ’سیوو دی چلڈرن‘ مسلسل اپنا کام کرتی رہی۔

تنظیم کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ سال چالیس لاکھ بچوں اور اُن کے اہل خانہ تک صحت، تعلیم، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی سہولتیں پہنچائی گئیں۔

’سیوو دی چلڈرن‘ کا کہنا تھا کہ اُس کے پاکستان میں تمام پروگرام حکومت کی متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مل کر ترتیب دیئے جاتے ہیں، جن کا مقصد بچوں کی صحت، خوراک کی ضروریات اور فلاح ہے۔

XS
SM
MD
LG