رسائی کے لنکس

مضبوط معیشتیں ترقی پذیر ممالک سے تعاون کریں: پاکستان

  • یاسر علی منصوری

پاکستانی وزیرِ اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و اُمور خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ اکیسویں صدی میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش چیلنجز اور انھیں دستیاب معاشی مواقع ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

پاکستان نے ترقی یافتہ معیشتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کے اداروں کی استعداد میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

پاکستانی وزیرِ اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و اُمور خارجہ سرتاج عزیز نے ان خیالات کا اظہار بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جاری ایشیا یورپ میٹنگ (اے ایس ای ایم) کے پیر کو افتتاحی اجلاس سے خطاب میں کیا۔

وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ اکیسویں صدی میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش چیلنجز اور انھیں دستیاب معاشی مواقع ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

’’مشترکہ تصور تمام سطحوں پر جامع، دیرپا اور مساوی معاشی ترقی ہی ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ترقی کے عمل سے جڑا اہم ترین چیلنج خصوصاً نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی ہے۔

’’پاکستان کی تقریباً 18.5 کروڑ آبادی کا دو تہائی حصہ 30 برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے ... (اور) افرادی قوت میں تین فیصد سالانہ کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ اے ایس ای ایم کے دیگر رکن ممالک کی طرح پاکستان کو بھی روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور جائے کار پر مناسب سہولتوں کی فراہمی کا چلینج درپیش ہے۔

’’ایک ایسے وقت جب عالمی معیشت کو متعدد بحرانوں کا سامنا ہے، اے ایس ای ایم کو ایشیا اور یورپ کے درمیان معاشی، سماجی اور دیگر شعبوں میں مربوط کردار ادا کرنا چاہیئے۔

اُنھوں نے بھارت کو اس تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے گیارہویں اجلاس کی میزبانی کرنے اور ’’نئے، متاثرکن تصورات‘‘ پیش کرنے پر مبارک باد بھی پیش کی۔
XS
SM
MD
LG