رسائی کے لنکس

بھارت سے ’ٹریک ٹو ڈپلومیسی‘ نہیں ہو رہی ہے: سرتاج عزیز


مشیر خارجہ سرتاج عزیز (فائل فوٹو)

مشیر خارجہ سرتاج عزیز (فائل فوٹو)

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان مارک ٹونر نے جمعرات کو روزانہ کی نیوز بریفنگ میں ایک مرتبہ پھر کہا تھا کہ اُن کا ملک پاکستان اور بھارت کے درمیان ساتھ وسیع ترتعاون اورمذاکرات کا خواہاں ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان غیر رسمی سفارت کاری یا ٹریک ٹو ڈپلومیسی نہیں ہو رہی ہے۔

اُنھوں نے یہ بات ایک ایسے وقت کہی جب پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں امریکہ سمیت کئی ممالک کی طرف سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ دونوں ملک تناؤ میں کمی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان مارک ٹونر نے جمعرات کو روزانہ کی نیوز بریفنگ میں ایک مرتبہ پھر کہا تھا کہ اُن کا ملک پاکستان اور بھارت کے درمیان وسیع تر تعاون اور مذاکرات کا خواہاں ہے۔

سرتاج عزیز نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل ایکسپرس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ بھارت سے ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔

’’ابھی تو کوئی آثار نہیں ہیں جو بیک ڈور ڈپلومیسی ہے جس کو ٹریک ٹو کہتے ہیں وہ اصل میں جب آپ ڈائیلاگ شروع کرتے ہیں اس میں کچھ مسائل ایسے ہیں جو ٹریک ون پر آسانی سے آگے چلتے ہیں ٹریڈ کا مسئلہ ہے، ٹریول کا مسئلہ ہے، ویزا کا مسئلہ ہے، مذہبی سیاحت کا ہے لیکن جو حساس معاملات ہوتے ہیں جس طرح کشمیر ہو گیا، سیاچن ہو گیا، سر کریک ہو گیا اس میں بیک چینل میں ایکسپلور کرنے میں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے موقف پر سمجھوتا نہیں کرتے۔‘‘

اُدھر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت جمعہ کو ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں ملک کی داخلی و خارجی سلامتی کی صورت حال کے علاوہ کشمیر کو منقسم کرنے والی ’لائن آف کنٹرول‘ کی موجودہ صورت حال پر بھی غور کیا گیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق بھارت کی طرف سے پاکستانی کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوے کو مسترد کیا گیا۔

بھارت نے ستمبر کے اواخر میں کہا تھا کہ اُس نے متنازع علاقے کشمیر میں مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر "سرجیکل سٹرائیکس" کی ہیں، تاہم پاکستان کی طرف سے فوری ردعمل میں بھی کہا گیا کہ ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

البتہ پاکستانی فوج کے مطابق اُسی روز لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے دو پاکستانی فوجی مارے گئے تھے۔

دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافہ 18 ستمبر کو بھارتی کشمیر میں ایک فوجی ہیڈکوارٹر پر مشتبہ دہشت گرد حملے کے بعد ہوا، اوڑی میں فوجی کیمپ پر حملے میں کم از کم 18 بھارتی فوجی مارے گئے تھے اور بھارتی قیادت نے الزام عائد کیا تھا کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان میں موجود ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم سے تھا۔

پاکستان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت ایسے دعوؤں کے ذریعے عالمی برادری کی توجہ بھارتی کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر سے ہٹانا چاہتا ہے۔

XS
SM
MD
LG