رسائی کے لنکس

موبائل پر غیر اخلاقی پیغامات بھیجنے پر قید دو خواتین کی ضمانت منظور


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اپریل میں اسلام آباد کی عدالت عالیہ نے ان خواتین کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت ایک ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے موبائل فون کے ذریعے غیر اخلاقی تصاویر اور ہتک آمیزا پیغامات ایک خاتون کو بھیجنے کے الزام میں اڈیالہ جیل قید دو خواتین کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

اپریل میں اسلام آباد کی عدالت عالیہ نے ان خواتین کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت ایک ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

انگریزی روزنامہ "ایکسپریس ٹربیون" کے مطابق ماریہ ناز اور شازیہ بیگم دو ماہ سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کے خلاف جنوری میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

خواتین کے وکیل نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ جن دفعات کے تحت ان خواتین پر مقدمہ درج کیا گیا ان میں سے کوئی بھی ان پر عائد کیے گئے الزام میں عائد نہیں ہوتی۔

پاکستان میں حالیہ برسوں میں موبائل فون کے ذریعے کسی کو پریشان کرنے اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تنگ کرنے کے الزامات کے تحت متعدد مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور میں متعدد افراد کو سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔

گزشتہ سال نومبر میں اسلام آباد کی ایک ذیلی عدالت نے ایک شخص کو فیس بک پر جعلی اکاؤنٹ بنا کر ایک لڑکی کو بلیک میل کرنے کے الزام میں تین سال کی قید اور 25 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

پاکستان میں سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے ایک مجوزہ قانون میں منظوری کے مراحل میں ہے جس پر مختلف سماجی حلقے اور انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اپنے تحفظات کا اظہار کرتی آرہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG