رسائی کے لنکس

اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے لیے 'خصوصی فورس تشکیل دی جائے'


سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنے حکم میں کہا کہ وفاقی حکومت ایسے مناسب اقدامات بھی کرے جن کی بنا پر 'سوشل میڈیا' پر نفرت انگیز تقاریر کی حوصلہ شکنی کو یقینی بنایا جائے۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی نے ملک میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی فورس کی تشکیل کا حکم دیا ہے۔

ملک میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ وفاقی حکومت ایسے مناسب اقدامات بھی کرے جن کی بنا پر 'سوشل میڈیا' پر نفرت انگیز تقاریر کی حوصلہ شکنی کو یقینی بنایا جائے اور مرتکب افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایک قومی کونسل برائے اقلیتی حقوق بھی تشکیل دی جائے جس کو یہ ذمہ داری سونپی جائے کہ وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سفارشات مرتب کرے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں ستمبر 2013 میں ایک چرچ پر ہونے والے خودکش حملے کے علاوہ چترال میں کیلاش اور اسماعیلی فرقے کو ملنے والی دھمکیوں کے واقعات پر از خود نوٹس لیا تھا۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں ملک کے مختلف علاقوں خاص طور پر صوبہ سندھ میں ہندوؤں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچائے جانے کا ذکر بھی کیا گیا۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی رمیشں کمار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں عدالت عظمٰی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ''آئین کے اندر ہمارے بہت سارے حقو ق ہیں لیکن ان پر عمل نہیں ہو رہا تھا عمل کے لیے کوئی سنجیدہ نہیں تھا اب چیف جسٹں نے ان کو سنجیدہ بنانے کے لیے ایک ٹاسک فورس بنانے کا کہا ہے اور ایک نیشنل کونسل بھی اور اس کو دیکھنے کے لیے ایک تین رکنی عدلیہ کا بینچ بھی ہو گا۔''

رمیش کمار کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد بین الاقوامی برادری کے ساتھ ساتھ اب اندرون ملک سے بھی اس دباؤ میں اضافہ ہو گا کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا یقینی بنایا جائے۔

''میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پہلے بین الاقوامی دباؤ ہوتا تھا کہ اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے اور اب قومی دباؤ بھی عدلیہ کی طرف سے آ گیا ہے کہ اقلیتوں کا خیال رکھا جائے تو اس وجہ سے ہم اب مسئلے حل کی طرف جائیں گے۔''

وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور سردار محمد یوسف کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ''کچھ ملک دشمن عناصرکی طرف سے مذہبی منافرت پھیلائی جا رہی تھی۔۔۔ ہماری حکومت جب سے آئی ہے وزیراعظم کی طرف سے مکمل طور پر ہدایات ہیں اور اس پر ہر وزارت کام کر رہی ہے اور ہماری بھی وزارت کام کر رہی ہے۔ مذہبی اور بین المذاہب آہنگی ایک ذمہ داری بھی بنتی ہے اسی وجہ سے ہم تمام مکتبہ فکر سے بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔''
حال ہی میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی مقدس کتاب اور عبادت کے مقامات کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف پارلیمنٹ کے احاطے میں مظاہرہ کیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا سکھ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد سندھ میں کئی دہائیوں سے آباد ہے جہاں ماضی میں ایسے واقعات کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ مختلف مذہبی فرقوں کے مقدس مقامات اور اُن کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG