رسائی کے لنکس

ملک میں نفاذ شریعت کی درخواست اعتراض کے ساتھ واپس


مولانا عبدالعزیز (فائل فوٹو)

مولانا عبدالعزیز (فائل فوٹو)

انسانی حقوق کے سینیئر کارکن مہدی حسن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حق سب کو حاصل ہے لیکن عدالت عظمیٰ نے آئین و قانون کے مطابق معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے اسلام آباد کی لال مسجد کے سابق خطیب کی طرف سے ملک بھر میں شریعت نافذ کرنے کے لیے دائر کی گئی درخواست کو چند اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا ہے۔

گزشتہ دسمبر میں مولانا عبدالعزیز کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت آئینی درخواست دائر کی گئی جس میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کرے کہ وہ آئین کے آرٹیکل دو (اے) کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اقدام کریں کہ جو ملک میں لوگوں کو اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزارنے سے متعلق ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ قومی سلامتی کے تناظر میں درپیش مختلف چیلنجز اور برائیاں، سماجی ہم آہنگی کے مسائل، دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کا واحد راستہ شرعی قوانین کا نفاذ ہے۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے معاون رجسٹرار نے درخواست پر اعتراض لگا کر اسے ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے واپس کر دیا ہے۔

ان اعتراضات کی تفصیل سامنے نہیں آئی لیکن بتایا جاتا ہے کہ مولانا عبدالعزیز ان اعتراضات کو دور کر کے درخواست دوبارہ جمع کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

2007ء میں اسلام آباد کی لال مسجد اس وقت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنی جب یہاں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر فوجی آپریشن کیا گیا جس میں ایک فوجی افسر سمیت دس اہلکار ایک دیگر ایک سو کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوگئے۔

حالیہ مہینوں میں بھی مولانا عزیز کی طرف سے بعض متنازع بیانات سامنے آئے ہیں جس پر ان کے خلاف سول سوسائٹی کے دو ارکان کی طرف سے مقدمات درج کروائے گئے ہیں جن میں مولانا عبدالعزیز نے ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔

انسانی حقوق کے سینیئر کارکن ڈاکٹر مہدی حسن نے مولانا عبدالعزیز کی درخواست واپس کیے جانے کے بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ "پاکستان کے آئین میں قرار دے دیا گیا ہے کہ یہ اسلامی جمہوریہ ہے اور چونکہ جمہوریہ کا لفظ موجود ہے تو لہذا لوگوں کی رائے کو بہت اہمیت حاصل ہے۔۔۔کچھ لوگوں کی اپنی رائے ہے وہ کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن چونکہ یہ زمانہ جمہوریت کا زمانہ ہے اس کے بغیر کام نہیں چلتا اور مذہبی حکومت اور جمہوریت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حق سب کو حاصل ہے لیکن عدالت عظمیٰ نے آئین و قانون کے مطابق معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG