رسائی کے لنکس

حکومت سے نیب کے پلی بارگین اختیار کی وضاحت طلب


فائل فوٹو

فائل فوٹو

نیب کے پراسیکیوٹر جنرل وقاص ڈار نے اس پر عدالت کو بتایا کہ یہ قانون ان کے ادارے نے نہیں بنایا اور وہ صرف وضع کردہ قانون کے مطابق کام کر رہا ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے وفاقی حکومت سے قومی احتساب بیورو کے "پلی بارگین" کے قانون کی وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اختیارات بدعنوانی کو جڑ سے ختم کرنے میں مشکلات کا سبب ہیں۔

پلی بارگین سے متعلق سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کی پیر کو ہونے والی سماعت کے دوران جج عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ ڈھائی سو روپے کی بدعنوانی کرنے والا شخص تو جیل پہنچ جاتا ہے جب کہ بدعنوانی کے بڑے مقدمات میں ملوث ملزمان آزاد گھومتے ہیں۔

نیب کے پراسیکیوٹر جنرل وقاص ڈار نے اس پر عدالت کو بتایا کہ یہ قانون ان کے ادارے نے نہیں بنایا اور وہ صرف وضع کردہ قانون کے مطابق کام کر رہا ہے۔

اس پر جج نے اپنے ریمارکس میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیب اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر کے ملک میں بدعنوانی کو سہولت فراہم کر رہا ہے۔

پلی بارگین کی شق قومی احتساب بیورو کے آرڈیننس مجریہ (1999ء) میں شامل ہے جس کے تحت ادارے کے سربراہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر بدعنوانی کا ملزم خوردبرد کی گئی رقم رضاکارانہ طور پر واپس کر دے تو اسے چھوڑ دیا جائے۔

گزشتہ سال بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ مشتاق ریئسانی کے گھر سے 60 کروڑ روپے برآمد ہوئے تھے جب کہ ان پر یہ الزام بھی تھا کہ انھوں نے غیر قانونی طریقے سے بیش قیمت املاک بنائیں۔

تاہم گزشتہ ماہ ہی نیب نے مشتاق رئیسانی کی طرف سے دو ارب روپے واپس کرنے کی پلی بارگین کو منظور کر لیا تھا جس پر ادارے کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ نیب کے اس آرڈیننس کے تحت ملزم دس سال تک کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا اور نہ ہی کسی بینک سے قرض لے سکتا ہے۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق مشتاق رئیسانی پر 40 ارب روپے کی بدعنوانی کا الزام تھا لیکن نیب اس کی تصدیق نہیں کرتا۔

سابق وفاقی وزیرقانون اور ماہر قانون دان خالد رانجھا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جس طرح سے اس قانون کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ مناسب نہیں۔

"پلی بارگین کا تصور تو یہ ہے کہ فرض کریں ملزم پر چار الزامات ہیں تو وہ یہ کہتا ہے کہ ایک چھوڑ دیں یا دو چھوڑ دیں اور باقی میں میرا مقدمہ سن لیں تو وہ تصور تو یہاں نہیں ہے، یہاں تو پلی بارگین یہ ہے کہ اگر مجھ پر دس لاکھ روپے لینے کا الزام ہے تو میں دس لاکھ دینے کو تیار ہوں تو یہ اس لحاظ سے ناانصافی ہے کہ جرم کیا اور پکڑے گئے تو پیسے دیے اور باہر آ گئے۔"

ان کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ایک ہی جامع قانون ہونا چاہیئے جس کا اطلاق سب پر ہو۔

"ہمارے ملک میں بدعنوانی کے چھ قانون ہیں اور ہر سطح پر مختلف ہیں جب تک ایک ہی جامع قانون نہیں بنائیں گے، ایک قانون ہی سب کے لیے تو اس وقت تک یہ مسئلہ ایسے ہی نظر آئے گا۔"

غیرملکی اثاثے اور آف شور کمپنیاں رکھنے والوں کی گزشتہ سال پاناما لیکس میں منکشف ہونے والی فہرست میں وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام آنے پر حزب مخالف کی طرف سے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ اس معاملے کی سپریم کورٹ میں سماعت بھی شروع ہو چکی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بدعنوانی کے خلاف ایک قانون بنانا چاہتی ہے جس میں پاناما لیکس سمیت بدعنوانی کے دیگر معاملات کے انسداد کا بھی احاطہ کیا جائے گا لیکن حزب مخالف یہ کہہ کر اس کی حمایت نہیں کر رہی ہے کہ اس عمل کے ذریعے حکومت پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کو طول دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

حکمران جماعت وزیراعظم اور ان کے بچوں پر لگنے والے الزامات کو مسترد کر چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG