رسائی کے لنکس

‘ شیزوفرینیا ذہنی معذوری نہیں‘ سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد


فائل فوٹو
فائل فوٹو

عدالتی فیصلے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ امداد علی کی سزائے موت پر عملدرآمد آئندہ ہفتے کسی وقت ہوسکتا ہے۔

پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے کہا ہے کہ شیزوفرینیا کی بیماری قانونی طور پر ذہنی معذوری کے زمرے میں نہیں آتی جس کے بعد قتل کے ایک ذہنی مریض کی سزائے موت پر عملدرآمد میں اب کوئی قانونی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔

امداد علی نے 2001ء میں وہاڑی میں ایک امام مسجد کو قتل کیا تھا جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی تھی جس پر گزشتہ ماہ عملدرآمد ہونا تھا۔

تاہم قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم "جسٹس پروجیکٹ پاکستان" نے عدالت عظمیٰ میں اس بنا پر درخواست دائر کی تھی کہ امداد علی ذہنی مرض میں مبتلا ہے جسے تختہ دار پر لٹکانا درست نہیں ہوگا۔

عدالت عظمیٰ نے سزا پر عملدرآمد کو ملتوی کر دیا تھا لیکن چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں اس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ شیزوفرینیا مستقل ذہنی مرض نہیں ہے اور صرف اس بنا پر سزا کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اس ضمن میں دو مختلف لغات سے بھی مدد لی گئی جس کے مطابق یہ بیماری قابل علاج ہے اور یہ ذہنی معذوری کے زمرے میں نہیں آتی۔

جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی عہدیدار سارہ بلال نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں عدالتی فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امداد علی کا معائنہ کرنے والے سرکاری ڈاکٹرز بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ شدید ذہنی بیماری اور تکلیف میں مبتلا ہے اور بہتر ہوتا اگر عدالت اس ضمن میں ماہر نفسیات سے بھی رائے لے لیتی۔

"ہمیں بڑی مایوسی ہوئی کیونکہ عدالتی فیصلے میں کئی تکنیکی چیزیں ہیں جو اگر وہ ماہر نفسیات کو بلا لیتے جو عدالت کے لیے وضاحت کر دیتے کہ یہ بیماری شدید ذہنی بیماری کے زمرے میں آتی ہے اس پر طب کی کتابوں میں معلومات موجود ہیں لیکن یہ معلومات عدالت کے سامنے پیش نہیں ہو سکیں۔"

قبل ازیں 50 سالہ امداد علی کی اہلیہ کہہ چکی ہیں کہ ان کے شوہر کو اپنے لفظوں پرقابو نہیں اور وہ یہ بتایا کرتا تھا کہ اس کے ذہن میں آوازیں گونجتی ہیں جو اسے کچھ بھی کرنے کا حکم دیتی ہیں اور ان کے بقول وہ مکمل پاگل ہے۔

سارہ بلال کا کہنا تھا کہ اس عدالتی فیصلے سے ایسے مقدمات پر مستقبل میں بھی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ اب ماتحت عدالتوں میں ملزمان کو یہ بھی ثابت کرنا پڑے گا کہ شیزوفرینیا ایک ذہنی بیماری ہے۔

انھوں نے کہہ وہ اس پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں لیکن ان کی خواہش کے صدر پاکستان اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے امداد علی کی سزا معاف کردیں کیونکہ ان کے بقول ایک ایسے شخص کو جس کو یہ نہیں پتا کہ وہ کون ہے اور کہاں ہے، سزا دے کر کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔

عدالتی فیصلے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ امداد علی کی سزائے موت پر عملدرآمد آئندہ ہفتے کسی وقت ہوسکتا ہے۔

اس عدالتی فیصلے پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا کہ اگر عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے امداد علی کی سزائے موت پر عملدرآمد ہوتا ہے تو انتہائی قابل مذمت ہوگا۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ فوجداری نظام انصاف میں ذہنی معذوری سے متعلق بین الاقوامی قوانین بہت اہم ہیں جو کہ ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کی طرف سے کسی جرم کی توجہہ تو نہیں ہیں لیکن ان کو دی جانے والی سزا کا تعین کرنے میں اہم ہیں۔

XS
SM
MD
LG