رسائی کے لنکس

قبائلی علاقوں میں سماجی اسکولوں کی بندش کے خلاف مظاہرہ

  • شمیم شاہد

قبائلی علاقوں میں سماجی اسکولوں کی بندش کے خلاف مظاہرہ

قبائلی علاقوں میں سماجی اسکولوں کی بندش کے خلاف مظاہرہ

افغانستان کی سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے حکومت نے 2003ء سے سماجی اسکولوں کے قیام کا آغاز کیا تھا۔ ان اسکولوں میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے مختلف ملکوں اور بین الاقوامی امدادی ادارے حکومت کی معاونت کررہے تھے۔

دورافتادہ پسماندہ علاقوں میں اس معاہدے تحت حکومت نے ایک ہزار کے لگ بھگ اسکول قائم کیے تاہم حکومت نے اب 31دسمبر2010ء سے ان تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مختلف قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنماؤں اور ان اسکولوں سے منسلک اساتذہ نے اس فیصلے کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کررکھی ہے اور ہفتے کو پشاور کے وارسک روڈ پر واقع فاٹا سیکرٹریٹ کے سامنے درجنوں اساتذہ نے اسکولوں کی بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین کے قائد امان اللہ آفریدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس فیصلے سے ہزاروں مقامی طالب علم تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہوجائیں گے۔

مقامی عہدیداروں نے بتایا کہ قبائلی علاقوں میں شرپسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں اور انتہا پسندوں کی پر تشدد سرگرمیوں کے باعث لاکھوں لوگ گھر بار چھوڑ کر دیگر علاقوں کی طرف نقل مکانی کرچکے ہیں اور ان کے بقول یہ اسکول غیر فعال ہوچکے ہیں اور اسی وجہ سے انھیں بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تاہم مظاہرہ کرنے والے اساتذہ نے کہا کہ غیر فعال اسکولوں کی تعداد بہت کم ہے جب کہ ان کے بقول اب بھی بہت سے سماجی اسکولوں میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری ہے۔ سرکاری عمارتوں کی بجائے یہ اسکول مقامی قبائلی آبادی کی طرف سے فراہم کردہ ہجروں اور مساجد میں قائم ہیں۔

گذشتہ سالوں کے دوران شدت پسندوں نے مختلف قبائلی علاقوں میں سینکڑوں اسکولوں کو آگ لگا کر یا بارودی مواد سے تباہ کردیا ہے۔

XS
SM
MD
LG