رسائی کے لنکس

اسلام آباد میں نجی تعلیمی ادارے 31 جنوری تک بند


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جہاں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کے اقدامات کا بتایا گیا وہیں اسکول کھلنے یا بند ہونے سے متعلق ابہام بھی شدت اختیار کر گیا جس سے طلبا کے والدین کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جمعرات کو تقریباً تمام نجی تعلیمی ادارے 31 جنوری تک بند کر دیے گئے جب کہ سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری ہے۔

گزشتہ ہفتے چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی میں ہوئے دہشت گرد حملے کے بعد ایک بار پھر تعلیمی اداروں کی سکیورٹی سے متعلق خدشات نے جنم لیا اور ایسے میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ دہشت گرد مزید درسگاہوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اس تناظر میں جہاں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کے اقدامات کا بتایا گیا وہیں اسکول کھلنے یا بند ہونے سے متعلق ابہام بھی شدت اختیار کر گیا جس سے طلبا کے والدین کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

بدھ کو فوج اور بحریہ کے زیر انتظام چلنے والے تمام تعلیمی اداروں کو 31 جنوری تک بند کرنے کا اعلان سامنے آیا جب کہ رواں ہفتے کے اوائل میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی حکومت کی طرف سے تمام تعلیمی اداروں کو سردی کی شدید لہر کی بنا پر ایک ہفتے تک بند رکھنے کا حکم جاری کیا گیا۔

ادھر پنجاب کے مختلف علاقوں میں ناقص سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے متعدد تعلیمی اداروں کو سیل بھی کر دیا گیا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی اسی بنا پر بعض تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان شدت پسندوں کے مہلک ترین حملے کے بعد سے ہی ملک بھی میں اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کو بڑھانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا جب کہ صوبے کے اساتذہ کو اسلحہ چلانے کی تربیت بھی فراہم کی گئی۔

لیکن 20 جنوری کو چارسدہ یونیورسٹی پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ایک بار پھر تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کی کا از سر نو جائزہ لے کر انھیں مزید سخت کیا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG