رسائی کے لنکس

107 اسکول پشاور حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں سے منسوب


صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر تعلیم عاطف خان نے ’وی او اے‘ سے گفتگو میں کہا کہ اس کا مقصد پشاور اسکول حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے درجنوں سرکاری اسکولوں کے نام پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے ناموں سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ابتدائی طور پر 107 سرکاری اسکولوں کے نام اُن بچوں کے ناموں پر رکھے جا رہے ہیں جو 16 دسمبر 2014ء کو دہشت گردوں کے مہلک حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر تعلیم عاطف خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ صوبائی حکومت نے اصولی فیصلہ کیا کہ پشاور اسکول پر حملے میں ہلاک ہونے والے تمام بچوں اور اساتذہ کے ناموں سے سرکاری اسکول منسوب کیے جائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے حملے کا نشانہ بننے والے طالب علموں اور اساتذہ کے لواحقین سے کہا ہے کہ وہ اگر اپنے اپنے آبائی علاقوں یا کہیں اور چاہیں تو صوبائی حکومت وہاں اُن کے پیاروں کے نام سے ایک سرکاری اسکول منسوب کر دے گی۔

’’اس کا مقصد یہ ہے اُن کی جو قربانی ہے اس کو خراج تحسین پیش کرنا ہے کہ اُن کے نام سے ایک اسکول ہو جائے۔ جب تک اسکول رہے گا تو اُن کا نام رہے اور لوگ پوچھیں گے کہ یہ کون تھا تو پھر اُن کی قربانی سامنے آئے گی۔‘‘

صوبائی وزیر کے مطابق زیادہ تر تو پشاور ہی کے اسکولوں کے نام اُن بچوں سے منسوب کیے جائیں گے لیکن کئی دیگر علاقوں کے اسکول بھی اس میں شامل ہیں۔

رواں ہفتے ہی وفاقی حکومت نے پشاور میں فوج کے زیر انتظام ایک اسکول پر دہشت گردوں کے مہلک حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں، اساتذہ اور اسکول کے عملے کے افراد کو اعلیٰ سویلین اعزاز دینے کا اعلان کیا۔

16 دسمبر 2014ء کو طالبان شدت پسندوں نے پشاور کے آرمی پبلک سکول میں داخل ہو کر لگ بھگ 150 افراد کو ہلاک کر دیا تھا جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ اس حملے کو ملک کی تاریخ میں دہشت گردی کا بدترین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

پشاور آرمی پبلک اسکول کے طالب علموں کا دس رکنی گروپ چین کے دورے پر روانہ ہوا

پشاور آرمی پبلک اسکول کے طالب علموں کا دس رکنی گروپ چین کے دورے پر روانہ ہوا

دریں اثناء پاکستانی فوج کے ایک بیان کے مطابق پشاور آرمی پبلک اسکول کے طالب علموں کا دس رکنی گروپ چین کے دورے پر روانہ ہوا ہے۔ اس سے قبل بھی بچوں کا ایک گروپ چین کا دورہ کر کے واپس آ چکا ہے۔

آرمی پبلک اسکول پر حملے سے طالب علم بری طرح متاثر ہوئے اور اُنھیں ذہنی دباؤ سے نکالنے کے لیے اندرون ملک بھی کوششیں کی جا رہی ہیں جب کہ کئی غیر ملکی ماہرین نفسیات بھی ان طالب علموں کی مدد کے لیے پشاور کا دورہ کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG