رسائی کے لنکس

پاکستان کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں منگل کو سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے گشت پر معمور سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔

اس واقعے میں ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

افغان سرحد سے ملحقہ مہمند ایجنسی اور دیگر قبائلی علاقوں میں 2007ء میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا۔

فوجی کمانڈر بیشتر علاقے میں حکومت کی عمل داری بحال کرنے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں لیکن وفاق کے زیر انتظام قبائلی پٹی میں عسکریت پسندوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً سکیورٹی فورسز اور دیگر سرکاری اہداف پر مہلک حملوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

اُدھر صوبہ بلوچستان کے علاقے اُچ میں نامعلوم مسلح افراد نے نیم فوجی سکیورٹی فورس ’فرنٹیئر کور‘ (ایف سی) کے ایک قافلے پر پیر کی شب گھات لگا کر حملہ کر دیا۔

ایف سی کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں سات حملہ آور مارے گئے، جب کہ اُن کے زیر استعمال بڑی تعداد میں اسلحہ اور دیگر گولہ بارود بھی قبضے میں لے لیا گیا۔

اُچ کے علاقے میں دو روز کے دوران کیا جانے والا یہ دوسرا حملہ تھا۔

کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند باغی اور شدت پسند ماضی میں ایسی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG