رسائی کے لنکس

چراغ تلے اندھیرا !

  • ن ہ

اسلام آباد فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہا ہے

اسلام آباد فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہا ہے

چوری اور پھر قتل کی واردات کی تحقیقات نے پولیس کو اسلام آباد میں منشیات فروشوں کے بین الاقوامی گروہ تک پہنچا دیا۔

پاکستان میں حالیہ برسوں میں خاص طور پرخودکش کاربم دھماکوں کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد دارالحکومت اسلام آباد میں بھی حکام نے ان کارروائیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کیے ہیں جس کے بعد شہر کے اکثر حصے فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کرتے ہیں۔

مرکزی شاہراؤں پر جگہ جگہ عارضی چیک پوسٹیں قائم ہیں جہاں تعینات پولیس اہلکار بارود کا سراغ لگانے والے آلات نا ہو نے کے باوجود ہر آنے جانے والی گاڑی پر’’گہری نظر‘‘ رکھے ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک آئے روز حفاظتی اقدامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ’’شاندار‘‘ کارکردگی کو سراہتے نہیں تھکتے۔

اُن کے بیانات سے شہریوں میں یہ تاثر عام ہے کہ اُن کا کوئی بھی فعل قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پوشیدہ نہیں۔

لیکن دارالحکومت میں آنے جانے والوں کی’’کڑی نگرانی‘‘ کے سرکاری دعوؤں کی قلعی چوری کی ایک حالیہ واردات نے ایک بار پھر کھول دی ہے۔

گزشتہ جمعہ کو آئی ٹن ون رہائشی سیکٹر میں ایک موبائل فون کمپنی کے ٹاور میں نصب بیٹریاں چرانے والے دو نوجوانوں کو قریبی مسجد کے عملے نے پکڑ کرمسجد کے ایک کمرے میں بند کر دیا اور پولیس کو اس کی فوری اطلاع بھی کردی۔

لیکن پولیس ٹیم کے وہاں پہنچنے سے پہلے مشتبہ چوروں نے مسجد کے عملے کے ایک رکن پر خنجر سے وار کر کے اُسے قتل کر کے فرار ہونے کی کوشش کی۔

ہیروئن کا نشہ کرے ہوئے

ہیروئن کا نشہ کرے ہوئے

پولیس حکام کے بقول بروقت کارروائی کر کے دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا اور تفتیش کے دوران اُنھوں نےاعتراف کیا کہ وہ ’’ہیروئن کا نشہ‘‘ کرتے ہیں جس نے اُنھیں چوری پر مجبور کیا۔

تفتیش کے دوران اُنھوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ آئی ٹن سیکٹر میں رہائش پذیر غیرملکیوں سے ہیروئن خریدتے ہیں۔

اُن کے بتائے ہوئے ایڈریس پر پولیس نے چھاپہ مارا تو وہاں ’’جنوبی افریقہ، نائجیریا، آئیوری کوسٹ اورسری لیوون سے تعلق رکھنے والے7 غیرملکیوں کو موجود پایا‘‘ جنہیں حراست میں لینے کے بعد اُن کے قبضے سے بڑی مقدار میں ہیروئن‘‘ بھی برآمد کی گئی۔

پولیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ چوری اور پھر قتل کی اس واردات کی تحقیقات نے اُنھیں منشیات کی اسمگلنگ کے ایک ایسے بین الاقوامی گروہ تک پہنچا دیا جو گزشتہ دس سال سے اسلام آباد کے راستے بیرونی دنیا کو ہیروئن اسمگل کرنے میں ملوث تھا۔

لیکن حکام بظاہر فوری طور پر یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ غیر ملکی شہری قانونی طور پر دارالحکومت کے ایک رہائشی سیکٹر میں مقیم تھے یا پھر وہ پاکستان کسی مقصد کے لیے آئے ہیں۔

زیر حراست غیر ملکیوں نے تفتیش کےدوران انکشاف کیا ہے کہ ’کارن فلیکس‘‘ کے ڈبوں میں بند ہیروئن اُنھیں لاہور اور پشاور سے پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سپلائی کی جاتی ہےجسے کیپسولوں میں بھرنے کے بعد اُن کے ساتھی نگل کر پیٹ میں چھپا لیتے ہیں، اور یوں یہ منشیات جنوبی افریقہ اور سری لیوون کو اسمگل کی جاتی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ منشیات فروشی کا یہ دھندا اسلام آباد میں با اثر شخصیات کی سرپرستی اور کسٹم حکام کی مدد کے بغیر ممکن نہیں اس لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس اصل مجرمان تک پہنچنے کا یہ ایک نادر موقع ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ وزیر داخلہ رحمٰن ملک کو اس واقعہ کی خبر کب ملتی ہے کیونکہ دوسری صورت میں اب تک ان کی طرف سے کوئی بیان ضرور سامنے آچکا ہوتا جس میں وہ اس کی کڑیاں بھی’’طالبان ظالمان‘‘ سے ملا چکے ہوتے، جوناقدین کے بقول منشیات فروشی کے اس گھناؤ نے دھندے میں ملوث افراد کی پردہ پوشی میں یقیناً مدد گار ثابت ہوگا۔

کراچی آتشزدگی

کراچی آتشزدگی

کراچی میں گارمنٹس فیکٹری میں آتشزدگی میں 264 سے زائد مزدوروں کی ہلاکت کے سانحہ میں بھی وزیر داخلہ کو دہشت گردی کا شبہ ہونے لگا ہے اورممکن ہے کہ وہ اس کی ذمہ داری بھی جلد ’’طالبان ظالمان‘‘ پر ڈال دیں جس سے پاکستان کے صنعتی شعبے میں کام کرنے والے مزدورں کی حفاظت اور صحت سےمتعلق افسوس ناک حالات کے ذمہ داران سے توجہ ہٹانے میں یقیناً مدد ملے گی۔

کراچی میں اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رحمٰن ملک نے خود ہی یہ انکشاف بھی کیا کہ فیکٹری میں پہلے بھی دو مرتبہ آگ لگ چکی تھی مگرمالکان نے کوئی حفاظتی انتظامات نہیں کیے۔

لیکن اس اعتراف کے باوجود وزیر داخلہ نے کہا کہ کراچی کے سانحہ میں ’’دہشت گردی کے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا‘‘۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG