رسائی کے لنکس

سکیورٹی فورسز پر حملے، چار اہلکار ہلاک


(فائل فوٹو)

پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں دہشت گردوں کے حملوں میں کم از کم تین سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے جب کہ جوابی کارروائی میں متعدد شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا بتایا گیا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے شبقدر میں جمعہ کی صبح فرنٹیئر کانسٹیبلری ’ایف سی‘ کے ایک تربیتی مرکز پر دو خودکش بمباروں نے حملہ کیا۔

کمانڈنٹ ’ایف سی‘ لیاقت علی نے شبقدر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ ایف سی اہلکاروں کی بروقت جوابی کارروائی کے سبب دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

’’یہ (دہشت گرد ایک منصوبے کے ساتھ) یہاں آئے تھے، یہاں پر تقریباً 120 لوگ اس تربیتی مرکز میں موجود تھے اور اُن کی کوشش تھی کہ وہ یہاں لوگوں کو کافی نقصان پہنچائیں گے۔۔۔ لیکن ’ایف سی‘ فورس بہت مستعد تھی۔‘‘

کمانڈنٹ ’ایف سی‘ لیاقت علی نے بتایا کہ خودکش حملہ آور نے بھی سیاہ رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے اور وہ یہ تاثر دینا چاہ رہا تھا کہ وہ اسی مرکز میں زیر تربیت ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ دونوں خودکش حملہ آور مارے گئے ہیں جب کہ اس حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔

اُدھر افغان سرحد کے قریب خیبر ایجنسی کے علاقے لوئے شلمان کے مقام پر جمعرات اور جمعہ کے درمیانی شب مبینہ طور پر سرحد پار افغانستان سے شدت پسندوں نے فرنٹیئر کور کی چوکی پر حملہ کیا، جس میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق جوابی کارروائی میں چھ ’دہشت گرد‘ مارے گئے۔

کالعدم تحریک طالبان کے دھڑے جماعت الاحرار نے ’لوئی شلمان‘ میں فرنٹئیر کور کی چوکی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

دریں اثنا خیبر ایجنسی ہی کے علاقے ’وادی راجگال‘ میں فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو فضائیہ کی مدد سے نشانہ بنایا جس میں متعدد عسکریت مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

حکام کے مطابق یہ کارروائی کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے سرغنہ منگل باغ کی علاقے میں موجودگی پر کی گئی۔ جس علاقے میں کارروائی کی گئی وہاں تک میڈیا کو رسائی نہیں اس لیے آزاد ذرائع سے ان کارروائیوں اور ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG