رسائی کے لنکس

بلوچستان سے افغان انٹیلی جنس کا 'ایجنٹ' گرفتار

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ترجمان کے بقول اس مبینہ افغان ایجنٹ کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا جب کہ اس کی نشاندہی پر ایک گھر پر چھاپہ مار کر وہاں سے بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

پاکستان میں سکیورٹی فورسز نے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان سے افغان انٹیلی جنس کے ایک میبنہ ایجنٹ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فرنٹیئر کور کے ایک ترجمان نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ چمن کے علاقے میں کی گئی کارروائی کے دوران اس شخص کو گرفتار کیا گیا جو کہ مبینہ طور پر افغان انٹیلی جنس ادارے کا موجودہ رکن ہے۔

تاہم اس شخص کا نام اور دیگر تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور نا ہی یہ بتایا گیا کہ یہ گرفتاری کب عمل میں آئی۔

ترجمان کے بقول اس مبینہ افغان ایجنٹ کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا، جب کہ اس کی نشاندہی پر ایک گھر پر چھاپہ مار کر وہاں سے بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

بعد ازاں بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں مبینہ افغان جاسوس کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

انہوں نے کہا کہ ’’فرنٹیئر کور اور سکیورٹی فورسز مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے کامیابی حاصل کی اور ایک افغان انٹیلی جنس ایجنٹ کو یہاں سے گرفتار کیا اور اس کی نشاندہی بہت بڑی اسلحے کی کھیپ جو یہاں پر معصوم لوگوں کی قتل و غارت گری میں استعمال ہونا تھا اس کو پکڑا ہے۔‘‘

اس شخص کو متعلقہ حکام کے حوالے کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی ایک بیان میں غیر ملکی جاسوس کی گرفتاری پر ایف سی بلوچستان کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ میں امن و امان کے حوالے سے حکومت ایف سی بلوچستان کی کارکردگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

تاحال افغان حکومت کی طرف سے اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

گزشتہ ماہ بھی پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان ہی سے پاک افغان سرحد کے قریب سے کلبھوشن یادوو نامی شخص کو گرفتار کیا تھا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کا اہلکار اور پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

پاکستانی عہدیداروں نے کلبھوشن کے اعترافی بیان پر مبنی وڈیو بھی جاری کی تھی۔ تاہم بھارت کا موقف ہے کہ اس شخص کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں اور اسلام آباد کلبھوشن تک سفارتی رسائی دے۔

پاکستانی عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ ملک میں، خصوصاً بلوچستان میں مبینہ طور پر مختلف ملکوں کی خفیہ ایجنسیاں ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور ان کا ہدف چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو سبوتاژ اور ملک کو غیر مستحکم کرنا ہے۔

بلوچستان ایک دہائی سے زائد عرصے سے شورش پسندی کا بھی شکار ہے اور حکام کے بقول عسکریت پسندوں کو مبینہ طور پر غیر ملکی ایجنسیاں معاونت فراہم کر رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG