رسائی کے لنکس

پشاور: 22 اہلکاروں کی بازیابی کی کوششوں میں تیزی

  • شمیم شاہد

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

حسن خیل کے علاقے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب درجنوں مسلح شدت پسندوں نے ایک چوکی پر حملہ کر کے لیویز فورسز کے دو اہلکاروں کو ہلاک اور 22 کو اغواء کر لیا۔

پشاور سے ملحقہ نیم قبائلی علاقے سے اغواء کیے جانے والے سکیورٹی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کوششیں جمعہ کو بھی جاری رہیں۔

انتظامیہ کے عہدے داروں نے حسن خیل سے تعلق رکھنے والے جر گے کے ممبران سے کہا ہے کہ وہ اغواء کیے جانے والے لیویز فورسز کے اہلکاروں کو جلد از جلد بازیاب کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اتنظامیہ کے عہدے داروں نے جرگہ میں شامل رہنماؤں سے کہا کہ وہ قبائلی علاقوں میں رائج قوانین کے تحت اور اہلکاروں کی بازیابی می فعال کردار ادا کریں۔

حسن خیل کے علاقے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب درجنوں مسلح شدت پسندوں نے ایک چوکی پر حملہ کر کے لیویز فورسز کے دو اہلکاروں کو ہلاک اور 22 کو اغواء کر لیا۔

طالبان شدت پسندوں نے ایک ترجمان کے ذریعے چوکی پر حملہ کرنے اور سکیورٹی اہلکاروں کو اغواء کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس سے قبل بھی پشاور کے قریب نیم قبائلی علاقوں میں روپوش عسکریت پسند سکیورٹی فورسز پر متعدد حملے کر چکے ہیں۔

خیبر پختون خواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے پشاور سے ملحقہ نیم قبائلی علاقے میں سکیورٹی فورسز کی چوکی پر ہونے والے حملے کے بارے میں وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’’اس حوالے سے سرچ آپریشن جاری ہے لیکن اب قبائلی نظام حوالے سے یہ ہی کہا گیا ہے کہ یرغمالی واپس دیں اور بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔‘‘

طالبان شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی چوکی پر ایک ایسے وقت حملہ کیا جب ان کے کمانڈروں نے حکومت سے مذاکرات کی مشروط پیشکش کی ہے۔
XS
SM
MD
LG