رسائی کے لنکس

بونیر: اپنی ہی بندوق کی گولی سے اسکول ملازم کی موت

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

خیبر پختونخوا حکومت کا موقف رہا ہے کہ وہ تمام سکولوں کو پولیس اہلکار فراہم نہیں کر سکتی لہٰذا اساتذہ اور انتظامی عملے کو اسلحے کے لائسنس جاری کیے جائیں گے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں منگل کو ایک پرائمری سکول کا ملازم اپنی ہی بندوق کی گولی لگنے سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

منگل کی صبح گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول قاسم خیل میں ایک چپڑاسی سعید انور سے حادثتاً بندوق چل گئی۔ پولیس کے مطابق اسے متعدد گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

سعید انور چوکیدار کے فرائض بھی سرانجام دے رہا تھا اور جب یہ واقعہ پیش آیا تو 12 بور کی بندوق اس کے ہاتھ میں تھی۔

خیبر پختونخوا کے پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر ملک خالد خان نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سکولوں کے محافظوں کو تربیت فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ اساتذہ تنظیمیں حکومت کو کئی بار کہہ چکی ہیں کہ سکیورٹی فراہم کرنا سکولوں کے اساتذہ یا چوکیداروں کا کام نہیں۔

’’میرے خیال میں حکومت کو چاہیئے، اگر وہ ضروری سمجھتے ہیں کہ چوکیدار کے لیے سکیورٹی لازمی ہے تو پھر ان کو ٹریننگ دینا چاہیئے اور ان کے لیے ایسے اسلحے کا بندوبست کرنا چاہیئے جو ٹھیک ہو۔ ان کے پاس جو بندوق ہوتی ہے یا پستول ہوتا ہے وہ چل جانے کا خطرہ رہتا ہے۔‘‘

گزشتہ ہفتے پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں بھی ایک سکول کا چوکیدار اپنی ہی بندوق کی گولی لگنے سے مارا گیا تھا۔

گزشتہ سال ضلع سوات میں ایک 12 سالہ طالب علم استاد کے پستول سے حادثتاً چلنے والی گولی سے موت کا شکار ہو گیا تھا۔

خیبر پختونخوا پولیس نے حال ہی میں ضلع لوئر دیر کی مختلف عدالتوں اور ججوں کے رہائش گاہ پر مامور چوکیداروں کو جدید اسلحہ چلانے کی تربیت فراہم کی۔

اس سے قبل 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے اور رواں سال چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد صوبے کے کچھ علاقوں میں سکولوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور انتظامی عملے کو بھی اسلحہ چلانے کی تربیت فراہم کی گئی۔

تاہم خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے سکولوں کے درجہ چہارم کے تمام ملازمین کو چوکیداری کی اضافی ذمہ داری دینے اور 12 بور کی بندوقیں فراہم کیے جانے کے باوجود ان کے استعمال کی تربیت نہیں دی گئی۔

دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پر حملے میں سو سے زائد بچوں سمیت لگ بھگ 150 افراد مارے گئے تھے جب کہ رواں سال جنوری میں چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے میں طلبا سمیت 21 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

خیبر پختونخوا حکومت کا موقف رہا ہے کہ وہ تمام سکولوں کو پولیس اہلکار فراہم نہیں کر سکتی لہٰذا اساتذہ اور انتظامی عملے کو اسلحے کے لائسنس جاری کیے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG