رسائی کے لنکس

امن و امان کی بہتری کے لیے صوبوں کو تعاون کی یقین دہانی


چودھری نثار علی خان (فائل فوٹو)

چودھری نثار علی خان (فائل فوٹو)

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا کہ اگر مشاورت کے ذریعے صوبائی حکومت ان پر کوئی ذمہ داری عائد کرتی ہے تو وہ اسے قبول کریں گے۔

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا صوبوں کی ذمہ داری ہے اور وفاقی حکومت ان کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے کو تیار ہے۔

ہفتہ کو وزیرداخلہ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ سلامتی کے مسائل مشاورت سے ہی حل ہوں گے اور وہ امن و امان کی صورتحال کی بہتری کے بارے میں صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے لیے جلد ہی کراچی اور پشاور جائیں گے۔

چودھری نثار نے کہا کہ اگر مشاورت کے ذریعے صوبائی حکومت ان پر کوئی ذمہ داری عائد کرتی ہے تو وہ اسے قبول کریں گے۔

’’صوبائی اسمبلی، صوبائی حکومت مجھے اختیار دے تو میں ایک حدود حربے کے ساتھ ان سے مشاورت کے ساتھ، بیٹھ کر جو ذمہ داری یہ مجھ پر لگائیں گے، وزارت داخلہ پر لگائیں گے، حکومت پر اور سکیورٹی ایجنسیز پر لگائیں گے میں وہ ذمہ داری لینے کو تیار ہوں، مگر وہ صوبائی حکومت اور حزب مخالف کی مشاور سے اور سندھ اسمبلی کی منظوری سے ہوسکتا ہے کسی اور طریقے سے نہیں۔‘‘

کراچی سمیت ملک کے شمال اور جنوب مغربی حصوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران تشدد کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

جمعہ کو کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی ساجد قریشی کو ان کے جواں سال بیٹے کے ہمراہ نا معلوم مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا جب کہ ملک کے اس اقتصادی مرکز میں آئے روز ہدف بنا کر قتل کرنے کی وارداتوں میں ایک بار پھر اضافے شہری خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔

ادھر خیبر پختونخواہ میں بھی حالیہ ہفتوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں دو اراکین صوبائی اسمبلی سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ اسی ماہ بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں دو بم دھماکوں میں اعلیٰ انتظامی عہدیدار اور یونیورسٹی کی طالبات سمیت بھی دو درجن کے قریب لوگ مارے گئے۔

وزیرداخلہ نے اس موقع پر اپنے اس بیان کی بھی وضاحت کی کہ انھوں نے امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے سندھ حکومت کو کوئی الٹی میٹم دیا تھا۔

چودھری نثار کا کہنا تھا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور انھوں نے ایسا کوئی الٹی میٹم نہیں دیا کیونکہ ان کے بقول انھیں اس کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
XS
SM
MD
LG