رسائی کے لنکس

کرم میں سکیورٹی فورسز جب کہ مانسہرہ میں پولیس کی گاڑی سڑک میں نصب دیسی ساخت کے بم دھماکوں کی زد میں آئی۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی اور شمال مغربی ضلع مانسہرہ میں 12 گھنٹے سے بھی کم وقت کے دوران ہونے والے دو بم دھماکوں میں چھ اہلکار ہلاک ہو گئے۔

کرم میں سکیورٹی فورسز جب کہ مانسہرہ میں پولیس کی گاڑی سڑک میں نصب دیسی ساخت کے بم دھماکوں کی زد میں آئی۔

قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں منگل کو ہو نے والے بم دھماکے میں سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق گاڑی وسطی کرم کے علاقے اُرمگئی سے پاڑہ چنار جا رہی تھی۔

دھماکے سے چار اہلکار ہلاک ہو گئے جب کہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا وہ خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کے قریب ہے جہاں گزشتہ اکتوبر سے پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کےخلاف "خیبر ون" کے نام سے بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دیسی ساخت کے بم دھماکے کے بعد فوج نے علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف جوابی کارروائی کی، جس میں حکام کے مطابق ایک اہم کمانڈر سمیت دو شدت پسند ہلاک جب کہ تین مشتبہ جنگجوؤں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

قبل ازیں پیر کو نصف شب کے قریب شمالی شہر مانسہرہ میں ہونے والے ایک بم حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

مقامی پولیس کے مطابق لاری اڈہ کے قریب پولیس کی ایک گاڑی راولپنڈی سے گلگت جانے والی گاڑیوں کو روانہ کرنے کے لیے ان کے ہمراہ تھی کہ سڑک میں نصب دیسی ساختہ بم کی زد میں آ گئی۔

بم دھماکے سے گاڑی پر سورا سب انسپکٹر فرید خان موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جب کہ زخمی ہونے والے دو اہلکاروں میں سے ایک نے اسپتال پہنچ کر دم توڑا۔

پاکستان کے اس نسبتاً پرامن علاقے میں پہلے بھی خاص طور پر گلگت آنے جانے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جن کی ذمہ داری حکام کالعدم شدت پسند تنظیموں پر عائد کرتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG