رسائی کے لنکس

بلوچستان: سکیورٹی فورسز پر بم حملہ، 3 اہلکار ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سکیورٹی فورسز نے ڈیرہ بگٹی کے علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران دس مشتبہ شر پسندوں کو ہلاک کر دیا۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں ایک بم دھماکے سے تین سکیورٹی اہلکار اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔

فرنٹیئر کور کی طرف سے ہفتہ کو جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ ایف سی کے اہلکار سوراب اور ضلع واشک کے علاقے میں معمول کے گشت پر تھے کہ انھیں مشتبہ عسکریت پسندوں نے سڑک میں نصب دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا۔

دھماکے سے تین اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے جب کہ زخمی ہونے والے چھ اہلکاروں کو قلات کے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

اس واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

بلوچستان کے جنوبی اضلاع میں اس سے پہلے بھی ایف سی اور فوج کے اہلکاروں پر جان لیوا حملے ہوتے رہے ہیں اور ان میں سے بیشتر کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکری تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔

کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے ہیڈکوارٹر کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ ضلع ڈیرہ بگٹی کے دو مختلف علاقوں دارنجان نالہ اور رستم نالہ میں شرپسندوں کے خلاف ہونے والی کارروائی میں کم ازکم دس شرپسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

بیان کے مطابق یہ شر پسند مبینہ طور پر بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے علاقوں میں قدرتی گیس کی پائپ لائنوں کو بارودی مواد سے اڑانے کے واقعات میں ملوث تھے۔

کارروائی کے دوران شرپسندوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ و بارودی اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

ادھر ایف سی کے ذرائع کے مطابق کوئٹہ کے نواحی علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران تاوان کے لیے اغوا کیے گئے غیر ملکیوں سمیت دس افراد کو بازیاب کروا لیا گیا۔

تاہم آزاد ذرائع سے ایف سی کے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

حالیہ مہینوں میں کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ان تنظیموں کے لوگ سکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ مسافر ٹرینوں اور قدرتی گیس کی تنصیبات کو بھی تواتر سے نشانہ بناتے چلے آرہے ہیں۔

مرکزی حکومت نے صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ کو کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں سے مذاکرات کرنے کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے جنہوں نے بعض اہم رہنماؤں سے رابطے بھی کیے۔ لیکن تاحال اس بارے میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

وزیراعلیٰ نے اس بارے میں بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کی ایک کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
XS
SM
MD
LG