رسائی کے لنکس

پاکستان: غیرقانونی شکار پر قطر کے شہزادے پر جرمانہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اس سلسلے میں حکومت نے غیر معمولی کارروائی کرتے ہوئے رواں سال کے اوائل میں ایک قطری شہزادے کو غیر قانونی طور پر پرندوں کا شکار کرنے پر 80,000 روپے جرمانہ کیا ۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں نایاب پرندوں اور جانوروں کے غیر قانونی شکار کی روک تھام کے لیے سخت سے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اس سلسلے میں حکومت نے غیر معمولی کارروائی کرتے ہوئے رواں سال کے اوائل میں ایک قطری شہزادے کو غیر قانونی طور پر پرندوں کا شکار کرنے پر 80,000 روپے جرمانہ کیا۔

قطر کے شہزادے شیخ عبد اللہ بن عبدالرحمٰن صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں تلور کے شکار کے لیے آئے تھے۔

صوبائی حکام کے مطابق شہزادے کے پاس نہ تو پرندوں کے شکار اور نہ ہی اس مقصد کے لیے تربیت یافتہ بازوں کو پاکستان لانے کا سرکاری اجازت نامہ موجود تھا، اس لیے اُن پر جرمانہ عائد کیا گیا۔

عہدیداروں کے مطابق شہزادے کے دو شکاری بازوں کو بھی قبضے میں لے لیا گیا جن کی مجموعی قیمت لگ بھگ پانچ کروڑ بتائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان بازوں کو رواں ہفتے ہی فضا میں چھوڑ دیا گیا ہے۔

اگرچہ پاکستان میں جنگلات ملک کے چار فیصد رقبے سے بھی کم ہیں مگر پھر بھی جنگلی حیات کے شکار کی کشش خلیجی ریاستوں کے امراء کو یہاں کھینچ لاتی ہے۔

کئی دہائیوں سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر کے شاہی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد پاکستان تفریح کی غرض سے آتے ہیں اور عموماً یہاں کئی روز تک شکار میں مصروف رہتے ہیں۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں سب سے زیادہ تِلور پرندے کا تربیت شدہ بازوں کے ذریعے شکار کیا جاتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر نے تلور کو نسل معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار پرندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔

اس سلسلے میں وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخواہ کے مشیر برائے جنگلی حیات اشتیاق ارمڑ نے کہا کہ شکار کے حوالے سے کسی کو بھی قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

پاکستان کے قوانین میں تلور کے شکار پر پابندی عائد ہے مگر حکومت خلیجی ممالک کے امراء کو ہر سال شکار کے خصوصی لائسنس جاری کرتی ہے۔

جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عموماً لائسنس میں دی گئی حد سے بہت زیادہ تعداد میں پرندے شکار کیے جاتے ہیں جس سے ان کی آبادی میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔

گزشتہ برس ایک سعودی شہزادے اور اس کے ساتھ آئے افراد نے تین ہفتوں کے دوران بلوچستان میں 2,100 تلور شکار کیے جو اس سال جاری کیے گئے 16 لائسنسوں کی شکار کی حد سے بہت زیادہ تھے۔ ایک لائسنس کے تحت دس دنوں میں صرف 100 پرندے شکار کیے جا سکتے ہیں۔

اس سال جنوری میں سندھ ہائی کورٹ نے ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اس معاملے پر ایک اہم فیصلہ سنایا تھا۔ ہائی کورٹ نے حکومت کی جانب سے پاکستان میں تلور کے شکار کے لیے عرب ممالک سے آنے والی شخصیات کو لائسنس کے اجراء کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ نومبر 2014 میں بلوچستان ہائی کورٹ نے بھی دفترِ خارجہ کی جانب سے ایسے لائسنس کے اجراء کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا مگر پھر بھی ان نایاب پرندوں کا شکار جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG