رسائی کے لنکس

مساجد اور مدارس کو ضابطہ کار میں لانا ہوگا: وزیر مملکت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

مذہبی امور کے وزیر مملکت امین الحسنات نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ مدارس اور مساجد سے متعلق نگرانی کا ایک موثر نظام ہو۔

برصغیر میں تعلیم کے فروغ کے لیے دینی مدارس ہمیشہ سے ایک اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں تاہم 80 کی دہائی کے اواخر میں شروع ہونے والی افغان جنگ کے لیے مجاہدین کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مبصرین کے مطابق کئی مذہبی درسگاہیں انتہا و شدت پسندی اور فرقہ واریت کے فروغ کے مراکز میں تبدیل ہوگئیں جنھیں بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔

وزیر مملکت برائے مذہبی امور امین الحسنات نے وائس آف امریکہ سے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ مدارس اور مساجد سے متعلق نگرانی کا ایک موثر نظام ہوجس کے تحت ان اداروں کو حاصل ہونے والی امداد پر بھی نظر رکھی جائے۔

’’دینی مدرسوں کو چھوڑیں ہمارے ہاں کہیں بھی چیک نہیں ہے۔ اوقاف میں ایسی کئی مساجد ہیں جو بغیر پوچھے تعمیر کی جاتی ہیں۔ اسلام آباد اس کا سب سے بڑا ڈن (مرکز) ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ کوئی مسجدیں نہیں ہوتیں۔ جس کا پہلا قدم غلط ہے اس کے اگلے جمعے والے قدم کہاں ٹھیک ہوں گے۔‘‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں 50 سے زائد ایسی مساجد ہیں جو کہ غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ہیں اور سیکورٹی عہدیدار انہیں سلامتی کے اعتبار سے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔

یاد رہے کہ 2007ء میں اسلام آباد کے مرکز میں لال مسجد سے متصل غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے مدرسہ جامعہ حفضہ کی طالبات نے شہر میں ’’غیر شرعی‘‘ سرگرمیوں کے خلاف مہم شروع کردی تھی اور چینی شہریوں کو بھی یرغمال بنالیا تھا۔

اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف کی حکومت کے انتباہ پر مسجد و مدرسے کی انتظامیہ، طالبات اور وہاں موجود مسلح افراد نے مذاحمت کی جس پر مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد بلآخر فوجی کارروائی کی گئی۔ اس کارروائی میں سو سے زائد افراد مارے گئے۔

امین الحسنات خود ایک دینی درسگاہ سے فارغ التحصیل ہیں جس کا انتظام گزشتہ کئی دہائیوں سے ان کے خاندان کے پاس ہے۔ انہوں نے غیر ملکی حکومتوں اور امدادی اداروں کے ان کے بقول غیر سنجیدہ رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’فلسفہ یہ ہے کہ یہ شرارتیں کرتا ہے سارا فنڈ اس پر لگاؤ کہ یہ کول ڈاؤن ہو جائے۔ جو نہیں کر رہا اچھا اسے دفعہ کرو یہ ٹھیک چل رہا ہے۔ اس فلسفے کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ صرف باتوں کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ مدارس سے متعلق اصلاحات یا ان کی نگرانی کا کوئی نظام ترتیب دینا بظاہر حکومت کی ترجیحات کا حصہ نہیں۔

’’یہ حکومت کو طے کرنا ہوتا ہے کہ کس سے کیا کام لینا ہے۔ دو ماہ میں تو میں نے یہی دیکھا ہے کہ بس یہی کرنا ہے کہ حاجی کو لے جاؤ حاجی کو لے آؤ۔‘‘

سابق فوجی صدر مشرف اور ان کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں دینی مدارس سے متعلق اصلاحات شروع کی گئیں مگر مذہبی اور قدامت پسند جماعتوں کی طرف سے دباؤ پر انہیں مکمل نہیں کیا جا سکا۔
XS
SM
MD
LG