رسائی کے لنکس

رائے دہندگان کے ووٹنگ کے وقت موبائل فون یا کوئی بھی ایسا آلہ ساتھ لے کر جانے پر پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے جس سے تصویر بنائی جا سکے۔

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ایوان بالا "سینیٹ" کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہی ہوگا اور ریٹرننگ افسران بیلٹ پیپر کو خفیہ رکھے جانے کو یقینی بنائیں۔

سینیٹ کے انتخابات پانچ مارچ کو ہو رہے ہیں جس میں قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

منگل کو الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق رائے دہندگان کے ووٹنگ کے وقت موبائل فون یا کوئی بھی ایسا آلہ ساتھ لے کر جانے پر پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے جس سے تصویر بنائی جا سکے۔

مزید برآں کوئی بھی امیدوار اگر انتخاب سے دستبردار ہونا چاہے تو وہ بدھ دوپہر 12 بجے تک دستبردار ہو سکتا ہے۔

سینیٹ میں ارکان کی تعداد 104 ہے جس میں آئین کے مطابق تمام صوبوں کو یکساں نمائندگی حاصل ہے۔ ایوان بالا کے لیے ہر صوبے سے 23 جب کہ وفاق سے چار اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے آٹھ نشستیں ہیں۔

52 ارکان 11 مارچ کو اپنی رکنیت کی معیاد پوری ہونے پر سبکدوش ہو رہے ہیں۔ چار نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ ہی منتخب ہو چکے ہیں جس کے بعد اب 48 نشستوں کے لیے جمعرات کو ووٹنگ ہو گی۔

سینیٹ انتخابات میں بڑے پیمانے پر ووٹوں کی خریدو فروخت، جس کے لیے ہارس ٹریڈنگ کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے، کو روکنے کے لیے حکومت نے تجویز دی تھی کہ آئین میں ترمیم کر کے خفیہ رائے شماری کی شرط کو ختم کیا جائے۔

اس تجویز پر اسے اپنی کٹڑ سیاسی مخالف جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حمایت بھی حاصل تھی لیکن حزب مخالف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سمیت بعض دیگر جماعتوں نے سینیٹ انتخاب سے محض چند روز قبل آئینی ترمیم کی تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کیا ہے کہ جلد بازی میں کیا جانے والا اقدام مناسب نہیں۔

XS
SM
MD
LG