رسائی کے لنکس

سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ اس متعلق وزارتِ قانون و انصاف کی کوششیں مجموعی طور پر بے سود رہیں اور صرف بلوچستان ہائی کورٹ نے تفصیلات مہیا کیں۔

اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے ججوں کی دہری شہریت سے متعلق معلومات فراہم نا کرنے پر پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا نے ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے حکومت کو آئندہ دو ماہ میں یہ تفصیلات سینیٹ میں پیش کرنے کا کہا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے قانون ساز اور سابق صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنی قرارداد میں مطالبہ کیا کہ حکومت ان ججوں کے نام شائع کرے جن کے پاس پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے ملک کی بھی شہریت ہے۔

یہ معاملہ گزشتہ چند ماہ سے سینیٹ کے ایجنڈے کا حصہ تھا اور فرحت اللہ باہر کے بقول ایوان کے بارہا مطالبے کے باوجود ان ججوں کے نام مہیا نہیں کیے گئے۔

سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ اس متعلق وزارتِ قانون و انصاف کی کوششیں مجموعی طور پر بے سود رہیں اور صرف بلوچستان ہائی کورٹ نے تفصیلات مہیا کیں جہاں کوئی بھی دہری شہریت کا حامل جج نہیں۔

دہری شہریت کا معاملہ گزشتہ چند سال سے پاکستانی سیاست اور میڈیا میں کافی اہمیت حاصل کرچکا ہے اور سابق پارلیمان کے کئی اراکین کو اس بنیاد پر عدالت نے نا اہل قرار دے کر ان کی رکنیت منسوخ کردی تھی۔

پاکستانی آئین کے تحت کسی اور ملک کی شہریت رکھنے والا پاکستانی ملک کی کسی قانون ساز اسمبلی کا رکن نہیں بن سکتا۔

پاکستان میں یہ آراء بھی پائی جاتی ہیں کہ اس قسم کی شرط ریاست کے دیگر اہم اداروں اور محکموں میں تقرری کے عمل کا بھی حصہ ہونی چاہیے۔
XS
SM
MD
LG