رسائی کے لنکس

سینیٹ: غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے لیے قانون سازی کا مطالبہ


غیرت کے نام پر قتل کے خلاف یاک مظاہرہ۔ فائل فوٹو

غیرت کے نام پر قتل کے خلاف یاک مظاہرہ۔ فائل فوٹو

قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل ہونے والی عورتوں کے ورثا کو قانون میں اجازت نہیں ہونی چاہیئے کہ وہ قاتل کو معاف کر سکیں۔

پاکستان کی پارلیامن کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں جمعرات کو حکومت اور حزب اختلاف نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر قانونی سازی کی جائے۔

یہ مطالبہ صوبہ پنجاب کے دارالحکوت لاہور میں پسندی کی شادی کرنے پر ایک لڑکی کو زندہ جلائے جانے کے واقعے کے بعد کیا گیا۔

بدھ کو زینت نامی اٹھارہ سالہ لڑکی کو پسند کی شادی کرنے پر مبینہ طور پر اس کی والدہ نے پیٹرول چھڑک آگ لگا دی تھی جس سے وہ ہلاک ہو گئی۔

اطلاعات کے مطابق جمعرات کی صبح مقتولہ لڑکی کی تدفین کر دی گئی جس میں اس کے رشتہ داروں میں سے کسی نے شرکت نہیں کی۔

حالیہ ہفتوں میں پاکستان میں تین مختلف واقعات میں خواتین کو جلایا گیا جس کے بعد سینیٹ میں اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق سے کہا کہ وہ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے قانون سازی پر کام کرے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اسلام میں بھی کسی کو زندہ جلانا ممنوع ہے اور آئندہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے عورتوں کے خلاف تشدد سے متعلق قوانین کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل ہونے والی عورتوں کے ورثا کو قانون میں اجازت نہیں ہونی چاہیئے کہ وہ قاتل کو معاف کر سکیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں پاکستان کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی سابق چیئر پرسن خاور ممتاز نے بتایا کہ عموماً ایسے واقعات میں متاثرہ عورتوں کے گھر والے خود ملوث ہوتے ہیں اور قصاص اور دیت کے قانون کے تحت ایک رشتہ دار دوسرے کو معاف کر دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ سزا سے بچ جاتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صرف قانون سازی سے اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا۔

’’قانون سازی ہونا ضروری ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ پورا پورا طریقہ کار ہونا بھی ضروری ہے۔ سب سے زیادہ جس کی ضرورت ہے میری نظر میں وہ پولیس اصلاحات کی ہے، پولیس تفتیش اور مقدمہ چلانے کے طریقے (میں اصلاحات)۔ جب آپ کیس کو خراب کر کے لے کر جاتے ہیں اور آپ قانون میں ہی طریقے ڈھونڈتے ہیں کہ کس طرح مجرم کو بچا سکیں تو پھر قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’قانون سازی کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی سختی سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

اعتزاز احسن نے یہ بھی کہا کہ غیرت کے نام پر قتل کے خلاف بل کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروایا جائے۔

فرحت اللہ بابر نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون میں عورتوں کو جلانے سے متعلق خصوصی شقیں شامل کی جائیں۔

XS
SM
MD
LG