رسائی کے لنکس

بھارت کے میزائل تجربے پر پاکستانی سینیٹ میں تشویش کا اظہار


وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے حکومت کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بھارت کی طرف سے بیلسٹک میزائل شکن نظام کی تیاری پر تشویش ہے۔

بھارت کی طرف سے میزائل شکن، میزائل کے تجربے پر پاکستان کے قانون سازوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں حکمت عملی تشکیل دے۔

گزشتہ ماہ بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مقامی طور پر ایک سپرسونک انٹرسیپٹر میزائل تیار کیا ہے جو اس کے بقول کسی بھی طرح کے بیلسٹک میزائل کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا "سینیٹ" میں قانون سازوں کی طرف سے بھارت کے انٹرسیپٹر یعنی میزائل شکن میزائل کے تجربے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اس معاملے پر بحث کے لیے تحریک التو جمع کرانے والے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ اس سے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن خراب ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی ادارے بھارت کے میزائل شکن میزائل تجربے کا نوٹس لیں اور اس کے مطابق اپنی حکمت عملی تشکیل دیں۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے حکومت کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بھارت کی طرف سے بیلسٹک میزائل شکن نظام کی تیاری پر تشویش ہے۔

ان کا کہنا تھا پاکستان کی دوستی اور مفاہمت کی پالیسی کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے اور وہ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہوئے بغیر اپنی دفاعی صلاحیت میں ضرورت کے مطابق اضافہ کر رہا ہے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کو بھارت کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی پالیسی کے خطرناک مضمرات سے آگاہ کرے گا۔

حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ’’(میزائل) تجربے سے بھارتی فوج کی طرف سے جارحیت کا خطرہ بڑھا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ بھارت چاروں طرف سے پاکستان کو گھیرے میں لے رہا ہے اور پاکستان کے ایران اور افغانستان جیسے ہمسائے بھی بھارت کے ساتھ جا ملے ہیں۔ ان کے بقول یہ پاکستان کی سفارتکاری کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

پاکستان میں عمومی تاثر یہی ہے کہ طاقتور ترین ادارہ، فوج ملک کی خارجہ پالیسی میں بھی خاصا اثرورسوخ رکھتا ہے لیکن حکومتی عہدیدار اس کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خارجہ پالیسی میں سلامتی کے امور کو مدنظر رکھتے ہوئے فوج سے مشاورت کی جاتی ہے۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ امریکہ کی طرف سے ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لیے پاکستان کو زراعانت کی فراہمی سے انکار جیسے دیگر بعض اقدام ہیں۔ ایسے میں گزشتہ ماہ بلوچستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے ایک بار پھر ڈرون کارروائی کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکہ سے احتجاج بھی کیا۔

سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی کا کہنا ہے کہ امریکہ سے تعلقات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اراکین سینیٹ چاہیں تو امریکہ کے ساتھ تعلقات کی شرائط طے کرنے کے لیے پورے ایوان کو کمیٹی قرار دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ کمیٹی متعلقہ افراد کو بلا کر بند کمرے میں اس مسئلے پر بات چیت کر سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG