رسائی کے لنکس

سینیٹر رضا ربانی اور زاہد خان کو دھمکی آمیز خطوط موصول


نامعلوم افراد کی طرف سے لکھے گئے خطوط میں سینیٹرز کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کے حق میں بیان دینے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کی شق چھ کے تحت کارروائی کرنے کی حمایت پر ایوان بالا یعنی سینیٹ کے مختلف ارکان کو نامعلوم افراد کی طرف سے دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی اور عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر زاہد خان کو موصول ہونے والے خطوط میں غیر شائستہ زبان استعمال کرتے ہوئے انھیں اغوا، تشدد اور قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔

اس بات کا انکشاف سینیٹر اعتزاز احسن نے ایوان بالا میں تقریر کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رضا ربانی کو ایک خط چند روز پہلے موصول ہوا جس کے بعد انھیں ایسا ہی دھمکی آمیز ایک اور خط موصول ہوا۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ انھیں ملنے والے ایک خط میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کے لیے بھی نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے دھمکی دی گئی ہے۔

سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے ان قانون سازوں سے کہا کہ وہ یہ خطوط انھیں دے دیں تاکہ اس کی تحقیقات کر کے ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔

نو سال تک ملک کے صدر رہنے والے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف رواں سال جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئے تھے جس کے بعد ان کا زیادہ تر وقت اپنے خلاف قائم مختلف مقدمات کی وجہ سے سب جیل قرار دیے گئے اپنے فارم ہاؤس پر ہی گزرا۔

ان دنوں وہ تقریباً تمام کیسز میں ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں لیکن ان کے خلاف 3 نومبر 2007ء کو آئین کو معطل کرتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی پاداش میں غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہے۔
XS
SM
MD
LG