رسائی کے لنکس

سکھر کی جیل میں کالعدم شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے تین مجرموں کو پھانسی دی گئی۔ ان مجرموں نے 2001ء میں وزارت دفاع کے ایک ڈائریکٹر سید ظفر علی شاہ کو قتل کیا تھا۔

پاکستان میں دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والے سات مجرموں کو منگل کی صبح پھانسی دے دی گئی۔

سکھر جیل میں تین، فیصل آباد میں دو جب کہ کراچی اور راولپنڈی کی جیلوں میں ایک، ایک مجرم کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔

سکھر کی سنٹرل ون جیل میں کالعدم شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے تین مجرموں خلیل احمد، محمد طلحہ اور شاہد حنیف کو پھانسی دی گئی۔

ان مجرموں نے 2001ء میں وزارت دفاع کے ایک ڈائریکٹر سید ظفر علی شاہ کو قتل کیا تھا۔

کراچی کی سنٹرل جیل میں قتل کے مجرم بہرام خان کو پھانسی دی گئی۔ اس نے 2003ء میں ایک وکیل کو کمرہ عدالت میں قتل کیا تھا۔

فیصل آباد میں دو مجرموں نوازش علی اور مشتاق احمد کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا۔ انھیں 2004ء میں اس وقت کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف پر ناکام قاتلانہ حملے میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی گئی تھی۔

نوازش علی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ پاک فضائیہ کا ملازم تھا جب کہ مشتاق احمد سویلین تھا۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ذوالفقار علی کو پھانسی دی گئی۔ وہ 2003ء میں کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر حملے میں ملوث تھا اور اس نے دو پولیس اہلکاروں کو قتل کیا تھا اور اس کا تعلق بھی ایک شدت پسند تنظیم سے بتایا جاتا ہے۔

گزشتہ ماہ پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے ہولناک حملے میں 133 بچوں سمیت 149 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے ملک میں سزائے موت کے قیدیوں کی سزاؤں پر عملدرآمد پر عائد پابندی ختم کر دی تھی۔

اقوام متحدہ، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے پابندی ہٹانے کے فیصلے کو واپس لینے کے مطالبات کے باوجود اب تک متعدد مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والے مجرموں کی سزاؤں پر عملدرآمد کیا جائے گا اور اس سلسلے میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG