رسائی کے لنکس

بتایا جاتا ہے کہ جہلم کی کرسچیئن کالونی مقامی طور پر شراب تیار کرنے کے لیے پورے علاقے میں 'بدنام' ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر جہلم میں "زہریلی شراب" پینے سے کم ازکم سات افراد موت کا شکار ہو گئے ہیں۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق کرسچیئن کالونی میں جمعرات کو دیگر گئے ایک شادی کی تقریب میں کچھ لوگوں نے شراب پی جس کے بعد کئی افراد کی طیعیت بگڑ گئی۔

جمعہ کی صبح تک ان متاثرہ لوگوں میں سے سات کی موت واقع ہوگئی جب کہ چند ایک اب بھی اسپتال میں ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ جہلم کی کرسچیئن کالونی مقامی طور پر شراب تیار کرنے کے لیے پورے علاقے میں بدنام ہے۔

پاکستان میں اس سے قبل بھی شراب پینے سے ہلاکتوں کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

مسلم اکثریتی آبادی والے اس ملک میں قانونی طور پر شراب کی خرید و فروخت ممنوع ہے اور یہ صرف خصوصی اجازت ناموں کے ذریعے غیرمسلموں کے لیے دستیاب ہے۔ لیکن یہاں غیرقانونی طور پر شراب تیار کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اکثر ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں کہ مقامی سطح پر تیار کی جانے والی شراب پی کر لوگ طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنے کے علاوہ موت کے منہ میں بھی چلے جاتے ہیں۔

ایک روز قبل ہی سندھ ہائی کورٹ نے پورے صوبے میں شراب کی فروخت کے لیے قائم دکانوں کو بند کرنے کا حکم دیا تھا جس پر غیر مسلم پاکستانیوں کی طرف سے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم دیکھنے میں آیا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG