رسائی کے لنکس

شفقت حسین کی پھانسی روکنے کے مطالبات میں اضافہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گزشتہ جمعرات کو شفقت حسین کے "بلیک وارنٹ" جاری کیے تھے جس کے تحت مجرم کو 19 مارچ کو پھانسی دی جانی ہے۔

انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کے علاوہ حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی اغوا اور قتل کے ایک مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم شفقت حسین کی پھانسی کو روکنے اور مقدمے کی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گزشتہ جمعرات کو شفقت حسین کے "بلیک وارنٹ" جاری کیے تھے جس کے تحت مجرم کو 19 مارچ کو پھانسی دی جانی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ شفقت حسین نے جب جرم کا ارتکاب کیا تھا تو اس کی عمر 14 سے 15 سال تھی۔ اس کی سزائے موت پر عملدرآمد کے احکامات جنوری میں جاری کیے گئے جس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ جرم کے وقت شفقت نابالغ تھا لہذا اس کی موجودہ سزا پر عملدرآمد روکا جائے۔

وزارت داخلہ نے اس پر عملدرآمد روکتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اس کی دوبارہ تحقیقات کی جائیں گی لیکن دوبارہ ڈیٹھ وارنٹ جاری ہونے کے بعد تاحال اس بارے میں کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

پیپلزپارٹی کی نائب صدر شیری رحمن نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ شفقت حسین کے مقدمے کی کارروائی دوبارہ شروع کی جائے۔

"14 سال کی عمر کے ایک بچے پر مقدمہ درج کرتے ہیں اور اس مقدمے میں بہت ساری انسانی حقوق کی تنظیموں نے اور دوسروں نے اس پر کافی سوالیہ نشان اٹھائے ہیں کہ کس طرح اقبالی بیان لیا گیا تو سزائے موت ایسی عجلت میں نہیں دی جاتی اور خاص طور پر جو (مجرم ہے) وہ نابالغ ہے اور ہمارے انصاف کا نظام اس کی بالکل اجازت نہیں دیتا یہ سخت نا انصافی ہو گی"۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو دیگر مقدمات میں سزائے موت پانے والوں کی قانونی کارروائی پر بھی سوالیہ نشان اٹھنے کا خدشہ ہے۔

ادھر انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی اپنے ایک تازہ بیان میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ شفقت حسین کی سزائے موت پر عملدرآمد فوری طور پر روکا جائے۔

ایشیا کے لیے تنظیم کے نائب ڈائریکٹر فیلم کائن نے بیان میں کہا کہ کم عمری میں کیے جانے والے کسی مبینہ جرم پر کسی کو پھانسی چڑھانا بچوں کے حقوق سے روگردانی کو ظاہر کرتا ہے۔

گزشتہ دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے پھانسیوں پر چھ سال سے عائد پابندی ختم کر دی تھی۔ ابتدائی طور پر دہشت گردی کے جرائم میں موت کی سزا پانے والوں کی پھانسیوں پر عملدرآمد کا کہا گیا لیکن رواں ماہ ہی وفاقی وزارت داخلہ نے دیگر جرائم میں بھی سزائے موت کے مرتکب مجرموں کی پھانسیوں کے انتظامات کرنے کا مراسلہ صوبوں کو بھیجا ہے۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق دی گئی سزاؤں پر عملدرآمد پاکستان کو درپیش مخصوص حالات میں ناگزیر ہے۔

XS
SM
MD
LG