رسائی کے لنکس

شفقت حسین کو پھانسی دے دی گئی


مجرم کی پھانسی چار بار موخر ہوئی لیکن گزشتہ ماہ پانچویں مرتبہ جاری ہونے والے ڈیتھ وارنٹ کی بنا پر اسے منگل کو علی الصبح پھانسی دے دی گئی۔

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کی سینٹرل جیل میں اغوا اور قتل کے مجرم شفقت حسین کو پھانسی دی دے گئی۔

2004ء میں شفقت حسین کو کراچی میں ایک کم سن بچے کو اغوا اور قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی جس کے خلاف عدالتوں سے اُن کی تماماپیلیں مسترد ہو چکی تھیں۔

اُدھر انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شفقت حسین کو پھانسی دیئے جانے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ’افسوسناک‘ دن ہے۔

تنظیم نے پاکستان سے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا کہ وہ سزائے موت پر عمل درآمد پر پابندی عائد کر دے۔

شفقت حسین کی سزائے موت کا معاملہ اس لحاظ سے غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اس کے خاندان نے سزائے موت سنائے جانے کے تقریباً دس سال بعد یہ موقف اپنایا کہ جرم کے وقت اس کی عمر 18 سال سے کم تھی اور پاکستانی قوانین کے مطابق جرم کا ارتکاب کرنے والے کسی نابالغ کو موت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

اسی بنا پر مجرم کی پھانسی چار بار موخر ہوئی لیکن گزشتہ ماہ پانچویں مرتبہ جاری ہونے والے ڈیتھ وارنٹ کی بنا پر اسے منگل کو علی الصبح پھانسی دے دی گئی۔

شفقت کی عمر کا تعین کرنے کے لیے عدالت نے تحقیقات کا کہا تھا جس پر حکام نے طبی تجزیے کے بعد کہا تھا کہ جرم کے وقت اس کی عمر لگ بھگ 23 سال تھی۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی رانا محمد افضل نے شفقت حسین کو پھانسی دیئے جانے پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجرم کو صفائی کا پورا موقع دیا گیا اور عمر کا تعین ہونے کے بعد ہی اُس کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔

پاکستان میں سزائے موت پر عملدرآمد پر چھ سال سے پابندی عائد تھی لیکن گزشتہ دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نےیہ پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا۔

پابندی کے خاتمے کے بعد سے اب تک 180 سے زائد مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

اقوام متحدہ، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیمیں حکومت سے سزائے موت پر عملدرآمد پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتی آرہی ہیں لیکن حکام کے بقول ملک کو درپیش مخصوص حالات خصوصاً سلامتی کے معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون کے مطابق دی گئی سزا پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔

XS
SM
MD
LG