رسائی کے لنکس

شہباز تاثیر کو اغوا کاروں نے خود ہی رہا کیا: وزارت داخلہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا کہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس واقعے کو اپنی کارکردگی سے منسوب کرے۔

پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق پنجاب کے مقتول گورنر کے بیٹے شہباز تاثیر کو کسی آپریشن میں بازیاب نہیں کروایا گیا بلکہ اغوا کاروں نے خود انھیں چھوڑا۔

ہفتے کو وزارت داخلہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ شہباز تاثیر کی مبینہ آپریشن کے ذریعے بازیابی سے متعلق انکوائری رپورٹ وزیر داخلہ چوہدری نثار کو پیش کی گئی۔

بیان کے مطابق حقائق اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ شہباز تاثیر کو کسی آپریشن کے ذریعے نہیں بازیاب کرایا گیا بلکہ اغواکاروں نے از خود اُنھیں چھوڑ دیا۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے مغوی بیٹے کی بازیابی سے متعلق "غلط معلومات" فراہم کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

شہباز تاثیر اپنے اغوا کے ساڑھے چار سال بعد منگل کو بلوچستان کے علاقے کچلاک سے بازیاب ہوئے تھے، جس کے بعد اُنھیں ان کے گھر لاہور منتقل کر دیا گیا۔

بلوچستان پولیس حکام کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کچلاک کے ایک احاطے میں چھاپہ مارا، جہاں سے اُنھیں شہباز تاثیر ملے۔

لیکن اُسی روز پاکستانی میڈیا نے کچلاک میں السلیم نامی ہوٹل کے مالک کا بیان نشر کیا جن کا کہنا تھا کہ شلوار قمیض پہنے ایک شخص نے اُن کے ہوٹل پر کھانا کھایا اور بل ادا کرنے کے بعد فون کر کے لاہور اپنے اہل خانہ سے بات کی جس کے بعد سکیورٹی اداروں کے اہلکار ہوٹل پہچنے اور اُس شخص کو اپنے ساتھ لے گئے۔

ہوٹل کے مالک کا کہنا تھا کہ اُسے یہ تب معلوم ہوا کہ وہ شخص شہباز تاثیر تھا جس نے ہوٹل میں کھانا کھایا اور جب ٹیلی ویژن پر اُس کی تصاویر اور خبریں نشر ہونا شروع ہوئیں۔

شہباز تاثیر کی بازیابی سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آنے کے بعد وزیر داخلہ چوہدری نثار نے حقائق جاننے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے ہفتے کو اپنی رپورٹ پیش کی۔

وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا کہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس واقعے کو اپنی کارکردگی سے منسوب کرے۔

شہباز تاثیر کی رہائی کے بعد ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ اُن کی رہائی بھاری تاوان کی ادائیگی کے بعد ممکن ہوئی۔

لیکن اس بارے میں تاثیر خاندان کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

وزارت داخلہ کے بیان میں بھی یہ کہا گیا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ شہباز تاثیر کو ایسے ہی رہا کیا گیا یا ان کی رہائی کے عوض کوئی تاوان وصول کیا گیا۔

شہباز تاثیر کو اگست 2011ء میں لاہور سے نامعلوم افراد نے اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ گھر سے دفتر جا رہے تھے۔

XS
SM
MD
LG