رسائی کے لنکس

سلامتی کے خدشات کے باعث کراچی، لاہور، راولپنڈی سمیت تقریباً 20 سے زائد شہروں میں منگل کی صبح ہی سے موبائل فون سروس بند کر دی گئی

پاکستان میں واقعہ کربلا کے چہلم کے سلسلے میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں منگل کو نکالے گئے ماتمی جلوسوں کی حفاظت کے لیے سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔

سلامتی کے خدشات کے باعث کراچی، لاہور، راولپنڈی سمیت تقریباً 20 سے زائد شہروں میں منگل کی صبح ہی سے موبائل فون سروس بند کر دی گئی جب کہ بعض شہروں میں موٹرسائیکل پر ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد رہی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 10 ہزار فوجی جوان سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے تعینات کیے گئے۔

حساس علاقوں بشمول راولپنڈی میں ماتمی جلوسوں کے راستوں کی فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی۔

گزشتہ ماہ راولپنڈی میں یوم عاشور کے موقع پر فرقہ وارانہ تصادم کے باعث کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد مظاہروں میں املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے شہر میں فوج تعینات کر کے کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

چہلم کے ماتمی جلوس سے قبل بھی راولپنڈی میں صورت حال کشیدہ تھی اور شہر میں لگ بھگ پانچ ہزار پولیس اہلکاروں سمیت فوج اور رینجرز کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے۔

راولپنڈی کے معروف قدیم تجارتی علاقے راجہ بازار میں واقعہ مدرسہ تعلیم القران کے ارد گرد تمام دن سکیورٹی انتہائی سخت رہی۔ اسی مدرسے کے سامنے عاشورہ کے جلوس کے موقع پر فرقہ وارانہ تصادم ہوا تھا۔

مدرسے کی انتظامیہ نے بھی چہلم ہی کے دن سنی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کر رکھا تھا تاہم راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کے مقامی علما سے طویل مذاکرات کے بعد مجوزہ کانفرنس موخر کر دی گئی۔

راولپنڈی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں ماتمی جلوس کے راستوں کو کنٹینر اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا جب کہ ’کلوز سرکٹ‘ کمیروں کی مدد سے آنے جانے والے افراد کی نگرانی کی جاتی رہی۔
XS
SM
MD
LG