رسائی کے لنکس

سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے یہ افراد اپنی مقدس کتاب اور عبادات کے مقامات کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں جمعہ کو درجنوں سکھ زبردستی داخل ہو گئے۔

سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے یہ افراد اپنی مقدس کتاب اور عبادات کے مقامات کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔

مظاہرے میں شریک مہر سنگھ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ اُن کی مذہبی کتاب اور مقامات کی بے حرمتی کے زیادہ تر واقعات صوبہ سندھ میں ہوئے۔

اُن کا کہنا تھا سکھ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد سندھ میں کئی دہائیوں سے آباد ہے جہاں ماضی میں ایسے واقعات کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

مہر سنگھ کا دعویٰ تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اُن کی مقدس کتاب کی متعدد بار بے حرمتی کی گئی۔

''تقریباً سات واقعات (مبنیہ بے حرمتی کے) ہوئے ہیں اور پانچ جگہوں پر پرچہ درج ہو چکا ہے ہم ابھی یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ دیانت دار افسران سے انکوئری کرائی جائے، جو یہ معلوم کریں کہ یہ کون (اس طرح کے واقعات) کر رہا ہے۔''

پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہونے والے سکھ برداری کے افراد نے علامتی احتجاجی دھرنا بھی دیا۔ جب کہ اُن کے ایک نمائندہ وفد نے ایوان میں حکمران جماعت کے قانون سازوں سے اس بارے میں مذاکرات بھی کیے۔

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما سید ظفر علی شاہ جو کہ سینیٹ کی کمیٹی برائے قانون اور انصاف کے رکن بھی ہیں، اُنھوں نے سکھ مظاہرین کو یقین دہانی کروائی کہ ان کے حقوق خاص طور پر مذہبی کتب اور مقدس مقامات کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔

ظفرعلی شاہ کا کہنا تھا کہ کیوں کہ حالیہ واقعات صوبہ سندھ میں پیش آئے ہیں تو اُنھوں نے صوبہ سندھ کے پولیس سربراہ سے بھی بات کی ہے کہ مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

''ہمارا آئین بغیر کسی تمیز کے تمام اقلیتوں اور اکثریت کے حقوق کے تحفظ عزت کو یقینی بناتا ہے۔ ہم اس ملک کے اندر رہنے والی اقلیتوں کو ناصرف عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ ان کو اپنا مکمل محب وطن شہری سمجھتے ہیں اور وہ ہیں۔''

ظفر علی شاہ کا کہنا تھا کہ سکھ برادری کے تحفظات سے وزیراعظم نواز شریف کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ مختلف مذہبی فرقوں کے مقدس مقامات اور اُن کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

اس بارے میں پاکستان کی عدالت عظمٰی میں بھی ایک مقدمہ زیر سماعت ہیں اور گزشتہ ہفتے ہی حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے عدالت کو بتایا تھا کہ عدم تحفظ کے باعث صوبہ سندھ سے ہر سال پانچ ہزار ہندو پاکستان چھوڑ کر دیگر ملکوں کا رخ کر رہے ہیں۔

عدالت عظمٰی نے اس بارے میں متعلقہ حکام سے رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف یہ کہتے آئے ہیں کہ ملک میں مذہبی ہم آہنگی کے لیے برداشت کے رویوں کو فروغ دینے کے علاوہ اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دیگر اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG