رسائی کے لنکس

سندھ میں پرانے لوکل گورنمنٹ نظام کا نفاذ، وجوہات اور خدشات

  • تصورالکریم بیگ

سندھ میں پرانے لوکل گورنمنٹ نظام کا نفاذ، وجوہات اور خدشات

سندھ میں پرانے لوکل گورنمنٹ نظام کا نفاذ، وجوہات اور خدشات

پاک و ہند میں مقامی حکومتوں کا نظام 129 سال پرانا ہے۔جس کی بنیاد وائسرائے لارڈ ریپان نے 1882ء میں رکھی تھی۔ اس نظام کا بنیادی مقصد مقامی آبادی کو درپیش مسائل سے مقامی سطح پر مؤثر طورپر نمٹنا تھا۔ تاہم یہ نظام اپنی روح کے مطابق مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

متحدہ ہندوستان میں ابتداً مقامی حکومت کے زیادہ تر ارکان سرکاری ملازم ہوتے تھے ۔ بعد ازاں 1909، 1919 اور 1935ء میں کی جانے والی اصلاحات کے نتیجے میں اختیارات مرحلہ وار منتخب نمائندوں کے حوالے کیے گئے جس سے مقامی حکومت میں سرکاری ارکان کی تعداد کم ہوتی چلی گئی اور مقامی سطح پر لوگوں کے مسائل کے حل اور فلاح و بہبود کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔

پاکستان کے قائم ہونے کے بعد یہاں انگریز کے نافذ کردہ مقامی حکومت کے نظام کو برقرار رکھا گیا جس کا خاتمہ 1959ء میں جنرل ایوب خان کے بنیادی جمہوریت کے نئے نظام کے ساتھ ہوا۔

بنیادی جمہوریتوں کے نظام میں سرکاری ارکان کی تعداد بڑھتی رہی جو ڈویژنل کونسل میں 50 فی صد تک جاپہنچی ۔مقامی مسائل ، مقامی سطح پر حل کرنے کے علاوہ اس نظام کا بنیادی مقصد منتخب صدر کے سیاسی مخالفین کے گرد دائرہ تنگ کرنا تھا۔ چنانچہ اس نظام پر بیوروکریٹس کی گرفت مضبوط تھی۔

سابق صدر پرویز مشرف نے مقامی حکومت کے نظام کو تبدیل کیا اور زیادہ اختیارات کی منتقلی کے ذریعے غیر سیاسی بنیادوں پر مقامی سطح پر عوام کو اقتدار میں شریک کیا۔ جس کے باعث انہیں اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے شدید ردِعمل کا سامنا رہا۔ تاہم اس نئے نظام کے ذریعے مقامی سطح پر منتخب نمائندوں کو زیادہ خودمختاری اور حکومت کا اختیار ملا اور ان کی مدد کے لیے سرکاری افسران تعینات کیے گئے ۔

سابق صدر مشرف کے اس نظام سے ان سیاست دانوں کی پریشانی میں اضافہ ہوا جو منتخب ہوکر صوبائی اور قومی اسمبلی میں جاتے تھے مگر مقامی حکومتوں کے بااختیار نظام نے ان کی گرفت ڈھیلی اور اثر ورسوخ کم کردیاتھا۔ کئی ماہرین کا کہناہے کہ یہ نظام اختیارات کے تعین کے سوا درست سمت کی جانب ایک قدم تھا۔

گذشتہ دنوں حکومت سندھ نے صدرزرداری کی اتفاق رائے سے سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001ءاور پولیس آرڈیننس 2002ءکو منسوخ کرتے ہوئے، سندھ لوکل گورنمنٹ ارڈیننس 1979ء اور پولیس ایکٹ قیام پاکستان 1861ء کو دوبارہ زندہ کردیا۔

ناقدین نے اسےجمہوری نظام میں ایک غیر جمہوری اقدام قراردیتے ہوئے اس پر نکتہ چینی کی ہے۔ان کا کہناہے کہ قیام پاکستان سے قبل برطانوی دور میں بھی ایسی کوئی مثال نہیں ملتی، جس میں عوامی نمائندوں سے اختیارات چھین کر غیرمنتخب سرکاری ملازمین تفویض کیے گئے ہوں۔ ان کا یہ بھی کہناہے کہ بہتر یہ تھا کہ حکومت پولیس آرڈر2002ء کے قابل اعتراض پہلوؤں کو بہتر بنانے پر توجہ دیتی۔

ناقدین کا کہناہے کہ ایسے کسی اقدام سے قبل حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ اسمبلی میں اس پر بحث کراتی اور عوام کے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لیتی ۔ قانون کی منسوخی کے لیے یہ دلیل وزن نہیں رکھتی کہ اسے تحلیل اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ ایک آمر کا بنایا ہوا قانون تھا۔ کیونکہ اس کی جگہ نافذ کیا جانے والے لوکل گورنمنٹ آرڈنینس1979ء کا خالق بھی ایک آمر ہی تھا۔

ناقدین کا کہناہے کہ حکومت کو چاہیے کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو بہتر بنانے اور زیادہ سے زیادہ اختیارات مقامی سطح کے منتخب راہنماؤں کو سوپنے کے لیے کام کرےجس سے لوگوں کے مسائل مقامی سطح پر جلد حل ہوں گے اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG