رسائی کے لنکس

لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش حملے میں 70 افراد ہلاک


سندھ کے قصبے سہون شریف میں معروف صوفی بزرگ شہباز قلندر کے مزار کے پرہجوم احاطے میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 70 ہوگئی ہے، جب کہ 200 سے زیادہ افراد زخمی، ہیں جن میں سے کئی ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔

الیکٹرانک میڈیا چینل اسپتال، امدادی کارکنوں اور مقامی انتظامیہ کے حوالے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے بھی زائد بتا رہے ہیں۔

اسلامک اسٹیٹ کے میڈیا ونگ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعوی ٰ کیا ہے جس میں عورتیں اور بچے بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ امدادی کاموں میں حصہ لینے کے لیے فوجی دستے ، سی 130 طیارے اور ہیلی کاپٹر بھیج دیے گئے ہیں۔

ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے سیہون شریف میں مشہور صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں بم دھماکہ اس وقت ہوا جب دھمال ڈالا جا رہا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق جب دھماکا ہوا، تو مزار کے احاطے میں بڑی تعداد لوگ موجود تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ ہر جمعرات کو بڑی تعداد میں افراد مزار آتے ہیں، جہاں نماز مغرب کے قریب دھمال بھی ڈالی جاتی ہے۔

ادھر درگاہ پر موجود اے ایس پی راشد کا کہنا ہے کہ دھماکا، دھمال کے فورابعد ہوا۔

دھماکے کے بعد دادو، حیدرآباد، تعلقہ اسپتال جام شورو کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

زخمیوں کو فوری طور پر لیاقت میڈیکل کالج جام شورواور حیدرآباد و قریبی علاقوں میں واقع اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کے لعل شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دن بہت سخت رہے ہیں ’’لیکن یہ عناصر ہمیں تقسیم نہیں کر سکتے‘‘۔

پاکستان میں گزشتہ چند دنوں کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں دہشت گردوں نے تواتر کے ساتھ حملے کیے، جس کے بعد ملک بھر میں سلامتی کی صورت حال کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کاکہنا ہے کہ دادو، جام شورو، نواب شاہ اور دیگر قریبی شہروں سے ڈاکٹرز اور طبی عملہ سہون روانہ کردیا گیا ہے اور پوری کوشش کی جارہی ہے کہ زخمیوں کو جلد از جلد طبی امداد دی جائے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس رات کو اڑائے جانے والے ہیلی کاپٹرز نہیں ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ خود بھی رات کو کسی وقت سہون پہنچ سکیں تاکہ خود امدادی کاموں کی نگرانی کرسکوں۔

ادھر آرمی چیف جنرل قمر باجود نے فوجی اور رینجرز کی طبی ٹیمیں سہون پہنچنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما آصف علی ز رداری اور بلاول بھٹو زرداری نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے سندھ حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اعلیٰ سطحی طور پر اس سانحے کی تحقیقات کرے کہ حفاظتی امور میں غفلت کیسے ہوئی۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے دھماکہ بزدلانہ عمل ہے۔انہوں نے سندھ حکومت کو ہدایات جاری کیں کہ جائے وقوع پر فوری ریسکیو آپریشن شروع کرکے زخمیوں کا بہتر سے بہتر انداز میں علاج کیا جائے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی ایک اور رہنما فریال تالپورنےپارٹی کارکنان کو فوری طور پر اسپتال جا کر خون کے عطیات دینے کی ہدایت کی ہے ۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG