رسائی کے لنکس

سیلاب کا رخ زیریں سندھ کی جانب، ایمرجنسی نافذ

  • عمیر ریاض

کوٹری بیراج

کوٹری بیراج

صوبہ سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں جبکہ سیلابی ریلے کے باعث مختلف علاقوں میں مزید درجنوں دیہات زیرِ آب آگئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ہونے والی فلڈ وارننگ کے مطابق کوٹری بیراج کے مقام سے آئندہ چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں میں انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا گزرنا شروع ہوگا جس کے باعث زیریں سندھ کے اضلاع مٹیاری، حیدرآباد، جامشورو اور خاص طور پر ٹھٹھہ کے دریا کے ساتھ واقع علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہونے کے امکانات ہیں۔
کوٹری بیراج پر منگل کی شام تک پانی کا بہاؤ تین لاکھ کیوسک کے قریب رہا جو آئندہ ایک سے دو روز میں چھ سے آٹھ لاکھ کے انتہائی اونچے درجے کے سیلاب میں تبدیل ہوجائے گا۔ زیریں سندھ کے تمام اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد حکومتی اہلکار اور فوجی جوان چوبیس گھنٹے دریا کے حفاظتی بندوں اورکناروں کی نگرانی پر مامور ہیں جبکہ دریا کے قریبی کئی علاقوں سے آبادی کی نقل مکانی بھی جاری ہے تاہم ٹھٹھہ میں کیٹی جتوئی بند کے ساتھ واقع دیہاتوں کے رہائشیوں نے انتظامیہ کی وارننگ کے باوجود علاقہ خالی کرنے سے انکار کردیا ہے۔
صوبائی محکمہ آبپاشی و برقیات کے حکام کے مطابق گڈو اور سکھر بیراجز پر موجود سپر فلڈ کی انتہائی بلند سطح آئندہ چوبیس گھنٹوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ منگل کی صبح گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ ساڑھے دس لاکھ کیوسک جبکہ سکھر بیراج سے پانی کا اخراج سوا گیارہ لاکھ کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

مزید شگاف، مزید تباہی
منگل کے روز ڈہرکی کے مقام پر رینی کینال میں 25 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے علاقے کے کئی دیہات زیرِ آب آگئے جبکہ ضلع جیکب آباد میں ٹھل کے نزدیک الہ آباد نہر میں ڈیڑھ سو فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے بھی علاقے کے پچاس سے زائد دیہات اور ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آئی ہوئی ہے۔ محکمہ آبپاشی کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبائی انتظامیہ کے اہلکار مقامی آبادی کی مدد سے دونوں مقامات پرشگاف پر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاہم علاقائی انتظامیہ کے مطابق رینی کینال کے شگاف سے ہونے والے رساؤ کے باعث نیشنل ہائی وے کے ایک حصے اور ریلوے ٹریک کے زیرِ آب آنے کا خطرہ ہے۔
سکھر کے نزدیک بیگاری کینال کے حفاظتی بند میں دراڑیں پڑنے کے بعد کناروں کو مضبوط بنانے کا عمل جاری ہے، جبکہ دریا اور شہر کے درمیا ن قائم حفاظتی دیوار سے بھی کئی مقامات پر رساؤ کی اطلاعات ہیں۔
ڈی سی او لاڑکانہ کے مطابق ریڈ زون قرار دیئے گئے عاقل آگانی لوپ بند سمیت ضلع میں موجود تمام حفاطتی بندوں کی مرمت کا کام مکمل کر لیا گیا ہے جس کے بعد اب یہ تمام بند محفوظ ہیں تاہم بندوں پر پانی کا شدید دباؤ برقرار رہنے کے سبب نزدیکی علاقوں سے آبادی کا انخلا جاری ہے۔
منگل کے روز بھی صوبے بھر کے متاثرہ مقامات سے مقامی رہائشیوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہا۔ انتظامیہ کے مطابق ضلع نواب شاہ کے کچے کے علاقوں سے مزید تین ہزار سے زائد افراد کو عارضی کیمپوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
سیلاب سے متاثرہ بالائی سندھ سے آنے والی اطلاعات کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں متاثرین سکھر، خیرپور اور دادو کے اضلاع میں ریلوے لائنوں، سڑکوں کے کناروں اور دیگر اونچے مقامات پر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

دورے، امدادی سرگرمیاں
پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے منگل کے روز سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی معائنہ کیا۔ فوج کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جنرل کیانی نے سکھر، کشمور اور کندھکوٹ سمیت سیلابی پانی میں گھرے دیگر کئی علاقوں کے دورے میں پاک فوج کی جانب سے جاری امدادی کاروائیوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ فوج سیلاب میں گھری سویلین آبادی کی مدد کے لیے ہر اس مقام پر پہنچے گی جہاں ریلیف یا ریسکیو کی ضرورت ہوگی۔
کئی وفاقی اور صوبائی وزرا کی جانب سے بھی صوبے کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور دریا کے حفاظتی بندوں کے دوروں کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔
دریں اثناء صوبائی محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ صوبے کے سیلاب سے متاثرہ 19 اضلاع میں 241 طبی کیمپ اور 96 موبائل ٹیمیں سیلاب زدگان کو طبی امداد پہنچانے میں مصروف ہیں جن میں گزشتہ دس دن کے دوران 72 ہزار سے زائد مریضوں کو بنیادی طبی سہولتیں فراہم کی جاچکی ہیں۔

XS
SM
MD
LG