رسائی کے لنکس

سندھ کے سیلاب زدگان کا رخ کراچی کی جانب

  • عمیر ریاض

اندرونِ سندھ کے مختلف سیلاب زدہ علاقوں سے متاثرین کی بڑی تعداد میں نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک بیس ہزار سے زائد سیلاب زدگان صوبائی دارالحکومت کراچی پہنچ چکے ہیں، جنھیں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور دیگر فلاحی و سیاسی تنظیمات کے تحت قائم کردہ مختلف کیمپوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔

کراچی کی شہری حکومت کے تحت سب سے بڑا ریلیف کیمپ اور ٹینٹ ولیج ورکرز ویلفئیر بورڈ کے فلیٹس کے احاطے میں قائم کیا گیا ہے جہاں پیر کے روز تک 10 ہزار سے زائد متاثرینِ سیلاب رجسٹرڈ ہوچکے تھے، جبکہ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ رزاق آباد میں قائم کیے گئے ریلیف کیمپ میں بھی پانچ ہزار سے زائد متاثرین ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اِس طرح، ایک ہزار سے زائد متاثرین کیٹل کالونی کے دو سرکاری اسکولوں میں قائم کیے گئے ریلیف کیمپوں میں مقیم ہیں۔ اس کے علاوہ بن قاسم ٹاؤن، گڈاپ ٹاؤن، محمود آباد، لیاری اور ہاکس بے کے مقامات پر قائم کردہ عارضی کیمپوں میں بھی سینکڑوں متاثرینِ سیلاب موجود ہیں۔ جبکہ مزید کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے متاثرینِ سیلاب کو غذا، صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی اشیاء فراہم کی جارہی ہیں، جبکہ رزاق آباد کے کیمپ میں ایک عارضی اسپتال بھی قائم کردیا گیا ہے جہاں لیڈی ڈاکٹرز بھی موجود ہیں۔ دیگر کیمپوں میں بھی ایمبولینس گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں متاثرہ افراد کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جاسکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کراچی آنے والے متاثرینِ سیلاب کی رجسٹریشن کا عمل نادرا (نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی) کی جانب سے شروع کردیا گیا ہے تاکہ امداد کی تقسیم کا عمل شفاف بنایا جاسکے۔

سٹی گورنمنٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کرکے کراچی آنے والے سیلاب زدگان میں سے اکثریت کا تعلق بالائی سندھ کے اضلاع جیکب آباد اور کشمور سے ہے، جہاں موجود سینکڑوں دیہات کے زیرِ آب آنے کے باعث یہ لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ رزاق آباد کے کیمپ میں مقیم متاثرین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان میں سے اکثر اپنے علاقوں میں پانی آجانے کے بعد حکومت کی جانب سے چلائی گئی بسوں اور ٹرینوں کے ذریعے بے سروسامانی کے عالم میں کراچی پہنچے ہیں۔ کیمپوں میں مقیم بیشتر افراد خالی ہاتھ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں اور اپنا مال، مویشی، سامان اور دیگر اشیاءپیچھے ہی چھوڑ آئے ہیں۔

رزاق آباد کے کیمپ میں مقیم ٹھل شہر کے ایک نزدیکی گاؤں کے باسی 73 سالہ دھنی بخش نے بتایا کہ ان کا 35 سالہ بیٹا اور پوتا ان سے بچھڑ گئے ہیں جن کا کچھ پتا نہیں۔ دھنی بخش کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خاندان کے 14 افراد کے ہمراہ بڑی مشکل سے صرف تن کے کپڑوں میں جان بچا کرآئے ہیں اور انھیں نہیں پتا کہ پیچھے ان کے گھر اور زمینوں کا کیا حال ہوا ہوگا۔

بیشتر متاثرینِ سیلاب یہ شکوہ کرتے نظر آئے کہ انہیں سیلاب کے خطرے سے خبردار نہیں کیا گیا اور یہ کہ اگر انہیں بروقت اطلاع مل جاتی تو وہ اپنے مال مویشی اور دیگر قیمتی سامان بچا لے آتے۔

ایسے ہی ایک متاثرہ فرد منظور سومار تھے جن سے وائس آف امریکہ کے اس نمائندے کی ملاقات ایک مقامی سوشل ورکر کے توسط سے ہوئی۔ سیلاب سے مکمل طور پر زیرِ آب آجانے والے ضلع جیکب آباد کے شہر خان پور سے تعلق رکھنے والے منظور سومار پیشے کے اعتبار سے ٹیچر ہیں اور اپنے بال بچوں سمیت اس وقت کراچی کے علاقے صفورہ گوٹھ میں اپنے ایک عزیز کے ہاں مقیم ہیں۔

سومار کا خیال ہے کہ جیکب آباد اور اُن کے شہر خان پور کو حکومتی اہلکاروں نے جان بوجھ کر سیلابی پانی میں ڈبویا۔

"مجھے یقین ہے کہ توڑی بند کو حکومت نے خود جان بوجھ کر توڑا تھا۔ اگر یہ چاہتے تو علی واہن کے مقام پر شگاف ڈال کے ریلے کا زور توڑ سکتے تھے مگر انھوں نے ایسا صرف اس لیے نہیں کیا کیونکہ اس سے علاقے کی کچھ 'بااثر سیاسی لوگوں' کی شوگر مل اور زمینیں زیرِ آب آجاتیں۔ لہذا انھوں نے ان کی زمینیں بچانے کے لیے ہمارے علاقے کے سینکڑوں دیہات اور شہر سیلاب میں ڈوبنے کے لیے چھوڑ دیے"۔

کشمور سے تعلق رکھنے والے عبداللہ میر جت نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے گنجان آباد علاقے اسی لیے ڈبوئے تاکہ وہاں آنے والی تباہی دکھا کے بیرونِ ملک امداد اکھٹی کی جا سکے۔ عبداللہ اپنے چھ بچوں، اہلیہ اور بوڑھے والدین سمیت کشمور سے نقل مکانی کرکے پہلے لاڑکانہ اور پھر وہاں سے کراچی پہنچے ہیں اور اب کراچی ائیر پورٹ کے عقب میں واقع آبادی بھٹائی آباد میں قائم کیے گئے ایک عارضی ریلیف کیمپ میں مقیم ہیں۔ وہ جہاں ایک جانب کیمپ کی ناگفتہ بہ حالت سے پریشان تھے تو دوسری جانب اپنے مستقبل سے جہاں ان کے مطابق انہیں سوائے تاریکی کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

کیمپوں میں مقیم سیلاب سے متاثرہ افراد جہاں ایک جانب جان بچ جانے پر اپنے رب کا شکر ادا کرتے نظر آتے ہیں، وہیں مستقبل کے ان دیکھے خدشات نے انہیں پریشان کر رکھا ہے۔ اور ان کی اکثریت حکومتی اداروں کی جانب سے ان کی بحالی کے لیے ایک جامع پروگرام کے اعلان اور اس مد میں مالی امداد کی خواہشمند ہے۔

XS
SM
MD
LG